حدیث نمبر: 923
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ، وَعَلَّمَهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ، وَقَالَ لَهُمْ فِيمَا قَالَ : " إِذَا جِئْتُمْ مِنًى فَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَى الْحَاجِّ إِلَّا النِّسَاءَ، وَالطِّيبَ لَا يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَاءً، وَلَا طِيبًا حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا عرفات میں، اور سکھائے اُن کو ارکان حج کے، اور کہا اُن سے: جب تم آؤ منیٰ میں اور کنکریاں مار چکو تو سب چیزیں درست ہوگئیں تمہارے واسطے جو حرام تھیں احرام میں، مگر عورتوں سے صحبت کرنا اور خوشبو لگانا۔ کوئی شخص تم میں سے صحبت نہ کرے اور نہ خوشبو لگائے جب تک طواف نہ کر لے خانۂ کعبہ کا۔
حدیث نمبر: 924
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ، ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ، وَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص کنکریاں مارے اور سر منڈائے یا بال کتروائے، اور اس کے ساتھ اگر ہدی ہو تو نحر کر لے، پس حلال ہو جائیں گی اس پر وہ چیزیں جو حرام تھیں، مگر صحبت کرنا عورتوں سے اور خوشبو لگانا درست نہ ہوگا طوافِ زیارت تک۔