کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: بےوضو عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہرنے کا اور سوار ہو کر ٹھہرنے کا بیان
حدیث نمبر: 874Q1
سُئِلَ مَالِكٌ : هَلْ يَقِفُ الرَّجُلُ بِعَرَفَةَ، أَوْ بِالْمُزْدَلِفَةِ، أَوْ يَرْمِي الْجِمَارَ، أَوْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ؟ فَقَالَ : كُلُّ أَمْرٍ تَصْنَعُهُ الْحَائِضُ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ، فَالرَّجُلُ يَصْنَعُهُ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ، ثُمَّ لَا يَكُونُ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ. وَالْفَضْلُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ طَاهِرًا. وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِكَ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ عرفات میں یا مزدلفہ میں کوئی آدمی بے وضو ٹھہر سکتا ہے، یا بے وضو کنکریاں مار سکتا ہے، یا بے وضو صفا اور مروہ کے درمیان میں دوڑ سکتا ہے؟ تو جواب دیا کہ: جتنے ارکان حائضہ عورت کر سکتی ہے وہ سب کام مرد بے وضو کر سکتا ہے، اور اس پر کچھ لازم نہیں آتا مگر افضل یہ ہے کہ ان سب کاموں میں با وضو رہے، اور قصداً بے وضو ہونا اچھا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 874Q1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 167»
حدیث نمبر: 874Q2
وَسُئِلَ مَالِكٌ : عَنِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ لِلرَّاكِبِ. أَيَنْزِلُ أَمْ يَقِفُ رَاكِبًا؟ فَقَالَ : بَلْ يَقِفُ رَاكِبًا. إِلَّا أَنْ يَكُونَ بِهِ أَوْ بِدَابَّتِهِ، عِلَّةٌ. فَاللّٰهُ أَعْذَرُ بِالْعُذْرِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ عرفات میں سوار ہو کر ٹھہرے یا اتر کر؟ بولے: سوار ہو کر، مگر جب کوئی عذر ہو اس کو یا اس کے جانور کو، تو اللہ جل جلالہُ قبول کرنے والا ہے عذر کو۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 874Q2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 167»