حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّ " نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ اُم فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے سامنے شک کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں عرفہ کے دن۔ بعضوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں، بعضوں نے کہا: نہیں، تو سیدہ اُم فضل رضی اللہ عنہا نے ایک پیالہ دودھ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار تھے عرفات میں، تو پی لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو۔
حدیث نمبر: 833
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ " كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ "، قَالَ الْقَاسِمُ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، يَدْفَعُ الْإِمَامُ، " ثُمَّ تَقِفُ حَتَّى يَبْيَضَّ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَدْعُو بِشَرَابٍ، فَتُفْطِرُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عرفہ کے روز روزہ رکھتی تھیں۔ حضرت قاسم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے دیکھا کہ عرفہ کی شام کو جب امام چلا تو وہ ٹھہری رہیں یہاں تک کہ زمین صاف ہوگئی، پھر ایک پیالہ پانی کا منگایا اور روزہ افطار کیا۔