حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ طَوَافَهُ ، نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ طَلَعَتْ ، فَرَكِبَ حَتَّى أَنَاخَ بِذِي طُوًى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ الطَّوَافِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے طواف کیا خانۂ کعبہ کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بعد نمازِ فجر کے، تو جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ طواف ادا کر چکے تو آفتاب نہ پایا، پس سوار ہوئے یہاں تک کہ بٹھایا اونٹ ذی طویٰ میں، وہاں دوگانہ طواف ادا کیا۔
حدیث نمبر: 818
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَدْخُلُ حُجْرَتَهُ ، فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کو طواف کرتے تھے بعد نمازِ عصر کے، پھر جاتے تھے اپنے حجرے میں، پھر معلوم نہیں وہاں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 819
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ " . قَالَ مَالِك : وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ بَعْضَ أُسْبُوعِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ أَوْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ ، ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا طَافَ حَتَّى يُكْمِلَ سُبْعًا ، ثُمَّ لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ ، قَالَ : وَإِنْ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ ، فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا خانۂ کعبہ کو خالی ہو جاتا طواف کرنے والوں سے، بعد نمازِ صبح اور بعد نمازِ عصر کے کوئی طواف نہ کرتا۔
امام ما لک نے فر مایا کہ جس نے طواف شروع کیا، پھر تکبیر ہوئی نمازِ صبح یا عصر کی تو وہ نماز پڑھے امام کے ساتھ، بعد نماز کے طواف پورا کرے، لیکن دوگانہ ادا نہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے یا ڈوب جائے، اور اگر بعد نمازِ مغرب کے پڑھے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے۔
امام ما لک نے فر مایا کہ جس نے طواف شروع کیا، پھر تکبیر ہوئی نمازِ صبح یا عصر کی تو وہ نماز پڑھے امام کے ساتھ، بعد نماز کے طواف پورا کرے، لیکن دوگانہ ادا نہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے یا ڈوب جائے، اور اگر بعد نمازِ مغرب کے پڑھے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 819B1
قَالَ مَالِك : وَلَا بَأْسَ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ طَوَافًا وَاحِدًا بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ ، لَا يَزِيدُ عَلَى سُبْعٍ وَاحِدٍ ، وَيُؤَخِّرُ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ كَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَيُؤَخِّرُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّاهُمَا إِنْ شَاءَ . وَإِنْ شَاءَ أَخَّرَهُمَا ، حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی شخص ایک طواف کرے بعد نماز فجر یا عصر کے اور دوگانہ کی تاخیر کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے، جیسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا، یا آفتاب ڈوب جائے تو کچھ قباحت نہیں ہے، اب دوگانہ طواف آفتاب ڈوبتے ہی پڑھ لے یا بعد نمازِ مغرب کے پڑھے۔