حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ : لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ سَعْدٌ : " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي " فَقَالَ الضَّحَّاكُ : فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : " قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ "
علامہ وحید الزماں
محمد بن عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے جس سال سیدنا معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور وہ دونوں ذکر کر رہے تھے تمتع کا، تو سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمتع وہی کرے گا جو اللہ کے احکام سے ناواقف ہو۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بری بات کہی تم نے اے بھتیجے میرے۔ سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منع کیا تمتع سے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔
حدیث نمبر: 763
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ أَعْتَمِرَ قَبْلَ الْحَجِّ وَأُهْدِيَ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَمِرَ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: قسم اللہ کی! مجھ کو قبل حج کے عمرہ کرنا اور ہدی لے جانا بہتر معلوم ہوتا ہے اس بات سے کہ عمرہ کروں بعد حج کے ذی الحجہ میں۔
حدیث نمبر: 764
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَنِ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فِي شَوَّالٍ ، أَوْ ذِي الْقَعْدَةِ ، أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ قَبْلَ الْحَجِّ ، ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْحَجُّ ، فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ إِنْ حَجَّ ، وَعَلَيْهِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جس شخص نے عمرہ کیا حج کے مہینوں میں، شوال یا ذی قعدہ یا ذی الحجہ میں قبل حج کے، پھر ٹھہرا رہا مکہ میں یہاں تک کہ پا لیا اس نے حج کو، اس نے تمتع کیا اگر حج کرے، اور اس پر ہدی لازم ہے جیسے میسر ہو، اگر ہدی نہ میسر ہو تو تین روزے حج میں رکھے اور سات روزے جب حج سے لوٹے تو رکھے۔
حدیث نمبر: 764B1
قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ إِذَا أَقَامَ حَتَّى الْحَجِّ ثُمَّ حَجَّ مِنْ عَامِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جب ہے کہ عمرہ کر کے مکہ میں ٹھہرا رہے حج تک، پھر حج کرے۔
حدیث نمبر: 764B2
قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ انْقَطَعَ إِلَى غَيْرِهَا وَسَكَنَ سِوَاهَا ، ثُمَّ قَدِمَ مُعْتَمِرًا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى أَنْشَأَ الْحَجَّ مِنْهَا : إِنَّهُ مُتَمَتِّعٌ يَجِبُ عَلَيْهِ الْهَدْيُ أَوِ الصِّيَامُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ، وَأَنَّهُ لَا يَكُونُ مِثْلَ أَهْلِ مَكَّةَ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ایک شخص مکہ کا باشندہ تھا، اب وہ کہیں اور جا کر رہا، پھر اشہر حج میں عمرہ کرنے آیا اور عمرہ کر کے وہاں ٹھہرا رہا۔ پھر حج کیا تو وہ تمتع ہو گا، اور اس پر ہدی واجب ہے، اگر ہدی نہ مل سکے تو روزے رکھے، اور اس کا حکم مکہ والوں کا سا نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 764B3
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مَكَّةَ دَخَلَ مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، وَهُوَ يُرِيدُ الْإِقَامَةَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُنْشِئَ الْحَجَّ أَمُتَمَتِّعٌ هُوَ ، فَقَالَ : نَعَمْ هُوَ مُتَمَتِّعٌ وَلَيْسَ هُوَ مِثْلَ أَهْلِ مَكَّةَ وَإِنْ أَرَادَ الْإِقَامَةَ وَذَلِكَ أَنَّهُ دَخَلَ مَكَّةَ وَلَيْسَ هُوَ مِنْ أَهْلِهَا ، وَإِنَّمَا الْهَدْيُ أَوِ الصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَّ هَذَا الرَّجُلَ يُرِيدُ الْإِقَامَةَ ، وَلَا يَدْرِي مَا يَبْدُو لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَيْسَ هُوَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص اور ملک والا عمرہ کا احرام باندھ کر حج کے مہینوں میں مکہ آیا، اور اس کی نیت مکہ میں رہنے کی ہے تاکہ حج بھی کرے، کیا وہ متمتع ہے؟ بولے : ہاں، وہ متمتع ہے، اہلِ مکہ کے مثل نہیں ہو سکتا، اگرچہ اس نے مکہ میں اقامت کی نیت کی، کیونکہ وہ جب مکہ میں آیا تھا تو وہ وہاں کا رہنے والا نہ تھا۔ پس اس پر ہدی یا روزے واجب ہوں گے، اور اس شخص نے جو مکہ میں رہنے کا ارادہ کیا ہے، تو اس کا حال معلوم نہیں کہ آئندہ کیا امر پیدا ہو، اس لئے وہ اہلِ مکہ میں سے نہیں ہو سکتا۔
حدیث نمبر: 765
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : " مَنِ اعْتَمَرَ فِي شَوَّالٍ أَوْ ذِي الْقِعْدَةِ أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْحَجُّ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ إِنْ حَجَّ ، وَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ ، وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے انہوں نے سنا سعید بن مسیّب سے، کہتے تھے: جس نے عمرہ کیا شوال یا ذی قعدہ میں یا ذی الحجہ میں، پھر مکہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ حج پایا، تو وہ متمتع ہے، اگر حج کرے، اس پر ہدی لازم ہوگی اگر میسر ہے، ورنہ تین روزے حج میں اور سات جب لوٹے رکھنے ہوں گے۔