حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے: اب افطار نہ کریں گے، اور پھر افطار کرتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے اب روزہ نہ رکھیں گے، اور میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ کسی مہینہ کے پورے روزے رکھے ہوں سوا رمضان کے، اور کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہ رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 633
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو چاہیے کہ بے ہودہ نہ بکے اور جہالت نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالیاں بکے یا لڑے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔“
حدیث نمبر: 634
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، إِنَّمَا يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي ، فَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! البتہ روزہ دار کے منہ کی بُو زیادہ پسند ہے مشک کی بُو سے اللہ جل جلالہُ کے نزدیک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ چھوڑ دیتا ہے اپنی خواہشوں کو اور کھانے کو اور پانی کو میرے واسطے تو وہ روزہ میرے واسطے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا، جو نیکی ہے اس کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک ملے گا، مگر روزہ وہ میرے واسطے ہے اور اس کا ثواب میں ہی دوں گا۔“
حدیث نمبر: 635
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور شیطان باندھے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 635B1
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ لَا يَكْرَهُونَ السِّوَاكَ لِلصَّائِمِ فِي رَمَضَانَ ، فِي سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ النَّهَارِ لَا فِي أَوَّلِهِ وَلَا فِي آخِرِهِ ، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَلَا يَنْهَى عَنْهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے سنا اہلِ علم سے کہ مسواک کرنا روزہ دار کو مکروہ نہیں ہے، کسی وقت ہو، اوّل روز یا آخر روز میں، اور میں نے کسی اہلِ علم سے نہیں سنا جو مسواک کرنا مکروہ جانتا ہو یا اس کو منع کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 635B2
قَالَ يَحْيَى : وَسَمِعْتُ مَالِكًا ، يَقُولُ فِي صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ : إِنَّهُ لَمْ يَرَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ يَصُومُهَا ، وَلَمْ يَبْلُغْنِي ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ السَّلَفِ ، وَإِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ وَيَخَافُونَ بِدْعَتَهُ ، وَأَنْ يُلْحِقَ بِرَمَضَانَ مَا لَيْسَ مِنْهُ أَهْلُ الْجَهَالَةِ وَالْجَفَاءِ لَوْ رَأَوْا فِي ذَلِكَ رُخْصَةً عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَرَأَوْهُمْ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھنا، میں نے کسی اہلِ علم کو نہیں دیکھا جو یہ روزے رکھتا ہو، اور نہ سلف سے مجھے یہ پہنچا، بلکہ اہلِ علم مکروہ جانتے تھے ان روزوں کو اور خوف کرتے ہیں اس بدعت سے کہ ایسا نہ ہو لوگ رمضان کے روزوں میں اس روزوں کو ملا دیں اگر اہلِ علم سے رخصت پائیں اور ان کو یہ روزے رکھتے ہوئے دیکھیں۔
حدیث نمبر: 635B3
وَقَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا ، يَقُولُ : لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ وَمَنْ يُقْتَدَى بِهِ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَصِيَامُهُ حَسَنٌ وَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَصُومُهُ وَأُرَاهُ كَانَ يَتَحَرَّاهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کسی عالم کو نہیں دیکھا جو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کرتا ہو، بلکہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا بہتر ہے، اور بعض اہلِ علم کو میں نے جمعہ کے دن روزہ رکھتے دیکھا، بلکہ میں نے دیکھا کہ وہ جمعہ کا خیال رکھتے تھے روزہ کے واسطے۔