کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے کا اور سدا روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ : يَوْمِ الْفِطْرِ ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن روزہ رکھنے سے: ایک یوم الفطر دوسرے یوم الاضحیٰ میں۔
حدیث نمبر: 614B
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ : لَا بَأْسَ بِصِيَامِ الدَّهْرِ إِذَا أَفْطَرَ الْأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهَا ، وَهِيَ أَيَّامُ مِنًى وَيَوْمُ الْأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ فِيمَا بَلَغَنَا ، قَالَ : وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سنا اہلِ علم سے سدا روزہ رکھنا کچھ برا نہیں ہے جب ان دنوں میں روزہ نہ رکھے جن دنوں میں منع کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے، اور وہ تین دن ہیں منی میں رہنے کے یعنی 11۔12۔13 ذوالحجہ اور ایک یوم الفطر اور ایک یوم الاضحیٰ، اور یہ ہم کو پسند ہے۔