کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: روزہ دار کو بوسہ لینے کی اجازت کا بیان
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا ، فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ لَهُ عَنْ ذَلِكَ فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا ، فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَرَجَعَتْ فَأَخْبَرَتْ زَوْجَهَا بِذَلِكَ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا ، وَقَالَ : لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ يُحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ ، ثُمَّ رَجَعَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ ؟ " فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَخْبَرْتِيهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ " فَقَالَتْ : قَدْ أَخْبَرْتُهَا فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا فَأَخْبَرَتْهُ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا ، وَقَالَ : لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّهُ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ "
علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بوسہ دیا اپنی عورت کو اور وہ روزہ دار تھا رمضان میں، سو اس کو بڑا رنج ہوا اور اس نے اپنی عورت کو بھیجا اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تاکہ پوچھے اُن سے مسئلہ کو، تو آئی وہ عورت سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور بیان کیا اُن سے، سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے ہیں روزے میں۔ تب وہ اپنے خاوند کے پاس گئی اور اس کو خبر دی، پس اور زیادہ رنج ہوا اس کے خاوند کو اور کہا اس نے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سے نہیں ہیں، اللہ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے حلال کر دیتا ہے، پھر آئی اس کی عورت سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں موجود ہیں، سو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کیا ہوا اس عورت کو؟“ تو بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے۔ سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”تو نے کیوں نہ کہہ دیا اس سے کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں“ (یعنی روزہ میں بوسہ لیتا ہوں)۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہہ دیا، لیکن وہ گئی اپنے خاوند کے پاس اور اس کو خبر کی، سو اس کو اور زیادہ رنج ہوا اور وہ بولا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سے نہیں ہیں، حلال کرتا ہے اللہ جل جلالہُ جو چاہتا ہے اپنے رسول کے لیے۔ تو غصہ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”قسم اللہ کی! میں تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے اور تم سب سے زیادہ پہچانتا ہوں اس کی حدوں کو۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 590
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 298، 322، 323، 1929، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 296، 324، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1363، 3901، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 284، 371، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 271، 272، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 918، 1515، 8200، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27141، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 89، 3370، 3371، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2492، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 374، شركة الحروف نمبر: 596، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 13»
حدیث نمبر: 591
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ " ثُمَّ ضَحِكَتْ
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دیتے تھے اپنی بعض بیبیوں کو اور وہ روزہ دار ہوتے تھے، پھر ہنستی تھیں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 591
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1928، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1106،وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2000، 2001، 2003، 2004، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3537، 3539، 3540، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1653، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1361، 3038، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2383، 2384، 2386، والترمذي فى «جامعه» برقم: 727، والدارمي فى «مسنده» برقم: 658، 1763، 1764، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1683، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8172، 8190، 8191، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24744، والحميدي فى «مسنده» برقم: 198، 199، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7408، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9482، والطبراني فى «الصغير» برقم: 172، 1131، شركة الحروف نمبر: 597، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 14»
حدیث نمبر: 592
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، " أَنَّ عَاتِكَةَ ابْنَةَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ امْرَأَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كَانَتْ تُقَبِّلُ رَأْسَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَا يَنْهَاهَا "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا، بیوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بوسہ دیتی تھیں سر کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روزہ دار ہوتے تھے، لیکن اُن کو منع نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 592
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 512، 7429، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9500
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 598، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 593
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا هُنَالِكَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْنُوَ مِنْ أَهْلِكَ فَتُقَبِّلَهَا وَتُلَاعِبَهَا ؟ فَقَالَ : أُقَبِّلُهَا وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عائشہ بنت طلحہ سے روایت ہے کہ وہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی تھیں، اتنے میں اُن کے خاوند عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق (بھتیجے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے) آئے اور وہ روزہ دار تھے، تو کہا اُن سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے: تم کیوں نہیں جاتے اپنی بی بی کے پاس؟ بوسہ لو اُن کا اور کھیلو اُن سے۔ تو کہا عبداللہ نے: بوسہ لوں میں اُن کا اور میں روزہ دار ہوں؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 593
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7421، 7422، 7444، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9486، 9490، 9522، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3397، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 8757، شركة الحروف نمبر: 599، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 594
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، " كَانَا يُرَخِّصَانِ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روزہ دار کو اجازت دیتے تھے بوسہ کی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الصيام / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7421، 7422، 7444، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9486، 9490، 9522، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3397، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 8757، شركة الحروف نمبر: 600، فواد عبدالباقي نمبر: 18 - كِتَابُ الصِّيَامِ-ح: 17»