کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: سجدۂ تلاوت کے بیان میں (سجدۂ تلاوت سنت ہے یا مستحب ہے)
حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ لَهُمْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِيهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھا سورہ «﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾» کو تو سجدہ کیا اور جب فارغ ہوئے تو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اس میں۔
حدیث نمبر: 481
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَرَأَ سُورَةَ الْحَجِّ فَسَجَدَ فِيهَا سَجْدَتَيْنِ ، ثُمّ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ السُّورَةَ فُضِّلَتْ بِسَجْدَتَيْنِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مصر والوں میں سے خبر دی مجھ کو کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورۂ حج کو پڑھا تو اس میں دو سجدے کئے، پھر فرمایا کہ یہ سورۃ فضیلت دی گئی بسبب دو سجدوں کے۔
حدیث نمبر: 482
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " يَسْجُدُ فِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے دیکھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سورۂ حج میں دو سجدے کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 483
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " قَرَأَ بِ النَّجْمِ إِذَا هَوَى فَسَجَدَ فِيهَا ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى "
علامہ وحید الزماں
حضرت اعرج سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے «﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾» پڑھ کر سجدہ کیا، پھر سجدہ سے کھڑے ہو کر ایک اور سورۃ پڑھی۔
حدیث نمبر: 484
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَرَأَ سَجْدَةً وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ ، ثُمَّ قَرَأَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَتَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ عَلَى : " رِسْلِكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكْتُبْهَا عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ " فَلَمْ يَسْجُدْ وَمَنَعَهُمْ أَنْ يَسْجُدُوا
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آیت سجدہ کی منبر پر پڑھی جمعہ کے روز، اور منبر پر سے اتر کو سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا، پھر دوسرے جمعہ میں اس کو پڑھا اور لوگ مستعد ہوئے سجدہ کو، تب کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: اپنے حال پر رہو، اللہ جل جلالہُ نے سجدۂ تلاوت کو ہمارے اوپر فرض نہیں کیا ہے، مگر جب ہم چاہیں تو سجدہ کریں، پس سجدہ نہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور منع کیا ان کو سجدہ کرنے سے۔
حدیث نمبر: 484B1
قَالَ مَالِك : لَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى أَنْ يَنْزِلَ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ السَّجْدَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَسْجُدَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارا مذہب اس پر نہیں ہے کہ اگر امام منبر پر آیت سجدہ کی پڑھے تو منبر سے اتر کر سجدہ کرے۔
حدیث نمبر: 484B2
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ عَزَائِمَ سُجُودِ الْقُرْآنِ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً لَيْسَ فِي الْمُفَصَّلِ مِنْهَا شَيْءٌ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ مؤکد سجدے قرآن میں گیارہ ہیں، ان میں سے مفصل میں کوئی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 484B3
قَالَ مَالِك : لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ يَقْرَأُ مِنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ شَيْئًا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى " عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَالسَّجْدَةُ مِنَ الصَّلَاةِ ، فَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ سَجْدَةً فِي تَيْنِكَ السَّاعَتَيْنِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی شخص کو نہ چاہیے کہ بعد نمازِ عصر کے اور فجر کے آیت سجدہ کی پڑھے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا نماز سے بعد صبح کے یہاں تک کہ طلوع ہو آفتاب، اور منع کیا نماز سے بعد عصر کی یہاں تک کہ غروب ہو آفتاب، اور سجدۂ تلاوت بھی بمنزلہ نماز کے ہے، تو کسی شخص کو نہیں چاہیے کہ آیت سجدہ کی ان دونوں وقتوں میں پڑھے۔
حدیث نمبر: 484B4
سُئِلَ مَالِك عَمَّنْ قَرَأَ سَجْدَةً وَامْرَأَةٌ حَائِضٌ تَسْمَعُ ، هَلْ لَهَا أَنْ تَسْجُدَ ؟ قَالَ مَالِك : لَا يَسْجُدُ الرَّجُلُ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَّا وَهُمَا طَاهِرَانِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے آیت سجدہ کی پڑھی اور ایک عورت حائضہ نے سنا، کیا وہ عورت بھی سجدہ کرے؟ تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ نہیں، مرد یا عورت دونوں کو سجدہ جب ہی درست ہے کہ وہ دونوں باوضو ہوں۔
حدیث نمبر: 484B5
وَسُئِلَ عَنِ امْرَأَةٍ قَرَأَتْ سَجْدَةً وَرَجُلٌ مَعَهَا يَسْمَعُ أَعَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ مَعَهَا ، قَالَ مَالِك : لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ مَعَهَا إِنَّمَا تَجِبُ السَّجْدَةُ عَلَى الْقَوْمِ يَكُونُونَ مَعَ الرَّجُلِ فَيَأْتَمُّونَ بِهِ ، فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُونَ مَعَهُ ، وَلَيْسَ عَلَى مَنْ سَمِعَ سَجْدَةً مِنْ إِنْسَانٍ يَقْرَؤُهَا لَيْسَ لَهُ بِإِمَامٍ أَنْ يَسْجُدَ تِلْكَ السَّجْدَةَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک عورت نے آیت سجدہ کی پڑھی اور کسی مرد نے اس کو سنا، کیا وہ مرد بھی سجدہ کرے عورت کے ساتھ؟ جواب دیا: نہیں، بلکہ سجدہ سننے والے پر جب واجب ہوتا ہے کہ وہ سننے والے مقتدی ہوں اس شخص کے جو آیت سجدہ کی پڑھتا ہے، اور یہ بات نہیں ہے کہ جو شخص آیت سجدہ کی کسی سے سنے اور وہ مقتدی نہ ہو پڑھنے والے کا تو وہ سجدہ کرے۔