کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: امام کا نماز عید کو جانے کا وقت اور انتظار کرنا خطبے کا
حدیث نمبر: 440Q1
قَالَ مَالِكٌ : مَضَتِ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا ، فِي وَقْتِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، أَنَّ الْإِمَامَ يَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِهِ قَدْرَ مَا يَبْلُغُ مُصَلَّاهُ ، وَقَدْ حَلَّتِ الصَّلَاةُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ سنت جس میں ہمارے نزدیک اختلاف نہیں ہے یہ کہ امام عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے لیے اس وقت گھر سے نکلے کہ عیدگاہ تک پہنچتے پہنچتے نماز کا وقت آجائے۔
حدیث نمبر: 440Q2
وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ ، هَلْ لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ قَبْلَ أَنْ يَسْمَعَ الْخُطْبَةَ؟ فَقَالَ : لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جس شخص نے نماز پڑھ لی عید الفطر کی امام کے ساتھ تو کیا وہ خطبہ سنے بغیر آ سکتا ہے؟ تو کہا: اس کو جائز نہیں ہے کہ قبل خطبہ سننے کے چلا آئے بلکہ جب امام لوٹے تو وہ بھی لوٹے۔