حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفرِ تبوک میں۔
حدیث نمبر: 327
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، قَالَ : فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا " حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَاهَا ، وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ " فَقَالَا : نَعَمْ ، فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ فَاسْتَقَى النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوۂ تبوک کے سال، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع کرتے ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو۔ پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا، پھر داخل ہوئے ایک مقام میں، پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا، پھر فرمایا: ”کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤ گے تبوک کے چشمہ پر، سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا، اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس میں پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آ لوں۔“ پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا۔ پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کیا چھوا تم نے اس کا پانی؟“ بولے: ہاں! سو خفا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت۔ کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے، پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا، پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا، سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”قریب ہے اے معاذ! اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔“
حدیث نمبر: 328
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کر لیتے مغرب اور عشاء کو۔
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ " . ¤ قَالَ مَالِك : أُرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر ایک ساتھ (یعنی جمع کیا ان کو) اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ (یعنی جمع کیا ان کو) بغیر خوف اور بغیر سفر کے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہو گا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہو گا۔
حدیث نمبر: 330
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا جَمَعَ الْأُمَرَاءُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَطَرِ جَمَعَ مَعَهُمْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جمع کر لیتے حاکموں کے ساتھ مغرب اور عشاء میں بارش کے وقت۔
حدیث نمبر: 331
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السَّفَرِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، لَا بَأْسَ بِذَلِكَ أَلَمْ تَرَ إِلَى صَلَاةِ النَّاسِ بِعَرَفَةَ "
علامہ وحید الزماں
ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے: کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں؟ بولے : کچھ حرج نہیں ہے، کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 332
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ يَوْمَهُ ، جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ لَيْلَهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے، اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے۔