حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ لَا يَسْتَطِيعُونَهُمَا " أَوْ نَحْوَ هَذَا
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ وہ صبح اور عشاء کی جماعت میں نہیں آسکتے۔“ یا اس کے مثل کچھ کہا۔
حدیث نمبر: 292
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " . وَقَالَ: " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . وَقَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا راستے میں اس نے ایک کانٹا پایا تو اس کو ہٹادیا، پس اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگیا اور اس کو بخش دیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ قسم کے لوگ شہید ہیں: جو طاعون (ایک پھوڑا بغل میں ہوتا ہے) سے مر جائے، یا دستوں سے مر جائے، یا ڈوب کر مر جائے، یا مکان سے گر کر مر جائے، یا اللہ جل جلالہُ کی راہ میں شہید ہوجائے۔“ اور یہ بھی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ : ”اگر لوگ اس ثواب کو جان لیں جو اذان اور صفِ اوّل میں ہے، پھر اس میں قرعہ نہ پائیں تو البتہ وہ قرعہ اندازی کریں اس پر، اور اگر لوگ جان لیں کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو البتہ اس پر جلدی کریں، اور اگر جان لیں جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی جماعت میں حاضر ہونے کا تو البتہ وہ گھٹنوں اور کہنیوں کے بل پر گھسٹتے ہوئے آئیں۔“
حدیث نمبر: 293
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إلَى السُّوقِ ، وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ فَمَرَّ عَلَى الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ ، فَقَالَ لَهَا : " لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ " ، فَقَالَتْ : إِنَّهُ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : " لَأَنْ أَشْهَدَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی نماز میں نہ پایا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بازار گئے اور سلیمان کا گھر بازار اور مسجد کے بیچ میں تھا، سو ان کو سلیمان کی ماں شفا ملی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شفا سے کہا کہ میں نے سلیمان کو صبح کی نماز میں نہیں دیکھا؟ تو شفا نے کہا کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ تب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ البتہ مجھے صبح کی نماز میں حاضر ہونا رات کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 294
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَرَأَى أَهْلَ الْمَسْجِدِ قَلِيلًا ، فَاضْطَجَعَ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ النَّاسَ أَنْ يَكْثُرُوا ، فَأَتَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ مَنْ هُوَ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : " مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ شَهِدَ الصُّبْحَ فَكَأَنَّمَا قَامَ لَيْلَةً "
علامہ وحید الزماں
عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ عشا کے لیے مسجد میں آئے تو دیکھا کہ لوگ کم ہیں، تو مسجد کے اخیر میں لوگوں کے جمع ہونے کے انتظار میں لیٹ گئے تاکہ لوگ زیادہ ہو جائیں، پس ابن ابی عمرہ آئے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔ پس سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ ابن ابی عمرہ نے ان کو اپنا نام بتایا تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ تم کو کتنا قرآن یاد ہے؟ تو ابن ابی عمرہ نے ان کو بتایا، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا کہ جو شخص عشا کی نماز میں حاضر ہو تو گویا اس نے آدھی رات عبادت کی، اور جو صبح کی جماعت میں حاضر ہو تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی۔