حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، فَقَالَ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ ، يَقُولُ : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اذان دی رات کو جس میں سردی اور ہوا بہت تھی، پھر کہا کہ نماز پڑھ لو اپنے اپنے ڈیروں میں۔ پھر کہا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کرتے تھے مؤذن کو جب رات ٹھنڈی ہوتی تھی، پانی برستا تھا، یہ کہ پکارے: ”نماز پڑھ لو اپنے ڈیروں میں۔“
حدیث نمبر: 156
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى الْإِقَامَةِ فِي السَّفَرِ إِلَّا فِي الصُّبْحِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَادِي فِيهَا وَيُقِيمُ ، وَكَانَ يَقُولُ : " إِنَّمَا الْأَذَانُ لِلْإِمَامِ الَّذِي يَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں صرف تکبیر کہتے تھے، مگر نمازِ فجر میں اذان بھی کہتے تھے، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اذان اس امام کے لیے ہے جس کے پاس لوگ جمع ہوں۔
حدیث نمبر: 157
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ لَهُ : " إِذَا كُنْتَ فِي سَفَرٍ ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ وَتُقِيمَ فَعَلْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ وَلَا تُؤَذِّنْ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا ، يَقُولُ : لَا بَأْسَ أَنْ يُؤَذِّنَ الرَّجُلُ وَهُوَ رَاكِبٌ
علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے ان کے باپ نے کہا کہ جب تو سفر میں ہو تو تجھے اختیار ہے چاہے اذان یا اقامت دونوں کہہ یا فقط اقامت کہہ اور اذان نہ دے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سوار ہو کر اذان دینے میں کچھ قباحت نہیں ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سوار ہو کر اذان دینے میں کچھ قباحت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 158
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى بِأَرْضٍ فَلَاةٍ صَلَّى عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ ، وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَكٌ فَإِذَا أَذَّنَ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ أَوْ أَقَامَ صَلَّى وَرَاءَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب نے کہا کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے چٹیل میدان میں تو داہنی طرف اس کے ایک فرشتہ اور بائیں طرف اس کے ایک فرشتہ نماز پڑھتا ہے، اگر اس نے اذان دے کر تکبیر کہہ کر نماز پڑھی تو اس کے پیچھے بہت فرشتے نماز پڑھتے ہیں، مثل پہاڑوں کے۔