کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: اگر چوپایہ کسی کا نقصان کر دے تو وہ رائیگاں ہے
حدیث نمبر: 540
19- وبه: عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”جرح العجماء جبار والبئر جبار والمعدن جبار. وفي الركاز الخمس.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”چوپایہ جانور (اگر نقصان کرے تو) رائیگاں ہے (اس کا کوئی بدلہ نہیں) کنویں اور معدنیات کا بھی یہی حکم ہے اور مدفون خزانے میں پانچواں حصہ (اللہ کے لئے نکالنا) ہے ۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 540
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «19- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ868/2 ، 869 ، ح 1687 ، ك 43 ب 18 ح 12) التمهيد 19/7 ، الاستذكار : 1616 ، و أخرجه البخاري (1499) ومسلم(1710) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 541
356- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”العجماء جبار، والمعدن جبار، والبئر جبار، وفي الركاز الخمس.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”چوپائے مویشی (کا زخمی کرنا وغیرہ) رائیگاں ہے (یعنی اس کے مالک پر کوئی دیت یا جرمانہ نہیں ہے) اور (ہر قسم کی) کان (میں زخمی ہونا یا موت واقع ہونا) رائیگاں ہے (یعنی اس کے مالک پر کوئی دیت یا جرمانہ نہیں ہے) اور کنواں رائیگاں ہے (یعنی کنویں میں گرنے کی وجہ سے اس کے مالک پر کوئی دیت یا جرمانہ نہیں ہے) اور دفینے (مل جانے کی صورت) میں پانچواں حصہ (اللہ کے لئے نکالنا ضروری) ہے ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 541
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «356- و أخرجه النسائي فى الكبريٰ (تحفة الاشراف 198/10 ح 13858) من حديث مالك به ومن طريقه رواه الجوهري فى مسند الموطأ (557) ورواه الحميدي (1086 بتحقيقي) عن سفيان بن عينيه : ثنا ابولزناد وعن الاعرج عن ابي هريرة به .»