کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: جس کے پاس قربانی نہ ہو اور وہ حج کے مہینوں میں بیت اللہ پہنچ جائے
حدیث نمبر: 308
497- وبه: أنها سمعت عائشة تقول: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس ليال بقين من ذي القعدة ولا نرى إلا أنه الحج فلما دنونا من مكة أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدي إذا طاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة أن يحل. قالت: عائشة: فدخل علينا يوم النحر بلحم بقر، فقلت: ما هذا؟ فقالوا: نحر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أزواجه. قال يحيى: فذكرت هذا الحديث للقاسم بن محمد فقال: أتتك بالحديث على وجهه.
حافظ زبیر علی زئی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینے سے) نکلے تو ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں اور ہمارا صرف حج کا ارادہ تھا پھر جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی کے جانور نہیں ہیں ، اگر اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی ہے تو احرام کھول دے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر قربانی والے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے یحییٰ (بن سعید الانصاری) نے کہا: پھر میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا : عمرہ نے تمہیں یہ حدیث بالکل اصل کے مطابق سنائی ہے ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 308
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «497- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 393/1 ح 907 ، ك 20 ب 58 ح 179) التمهيد 356/23 ، الاستذكار : 847 ، و أخرجه البخاري (1709) من حديث مالك به.»