کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: رمضان کے بعد شعبان کے روزوں کی اہمیت
حدیث نمبر: 264
424- وبه: أنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر، ويفطر حتى نقول لا يصوم؛ وما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان، وما رأيته فى شهر أكثر صياما منه فى شعبان.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنا شروع کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اب) افطار نہیں کریں گے اور افطار کرنا شروع کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ (اب) روزے نہیں رکھیں گے ۔ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں سب سے زیادہ روزے رکھے ہوں ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 264
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «424- متفق عليه، الموطأ (رواية يحيٰي بن يحيٰي 309/1 ح 495 ، ك 18 ب 22 ح 56) التمهيد 164/21 ، الاستذكار : 644، و أخرجه البخاري (1969) ومسلم (1156/175) من حديث مالك به .»