کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: مال کو برباد کر نے کا (یعنی اسراف کا) اور ذوالوجہین (دوغلے ) کا بیان
حدیث نمبر: 1824
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا، يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر، اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے کہ پوجو تم اسی کو، اور شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، اور پکڑے رہو اللہ کی رسی کو (یعنی قرآن کو)، اور نصیحت کرو اپنے حاکم کو (یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ)، اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کر نے سے، اور مال تلف کر نے سے (یعنی بے جا خرچ کرنے سے)، اور بہت سے مانگنے اور سوال کرنے سے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1824
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1715، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3388، 4560، 5720، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16753، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6316، بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 442، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 20»
حدیث نمبر: 1825
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ : الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا سب آدمیوں میں ذوالوجہین (دوغلا) ہے، جو ایک گروہ کے پاس جائے وہاں انہی کی سی بات کہہ دے، جب دوسرے گروہ میں آئے وہاں اُن کی بات کہے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1825
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3493، 3495، 6058، 7179، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1818، 2526، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 92، 5754، 5755، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4872، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2025، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5378، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9998، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1074، 1075، 1076، 1166، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 21»