حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا خَيْرَ فِي الْكَذِبِ "، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے۔“ پھر وہ شخص بولا: میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لیے یوں کر دوں گا، یہ بنا دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1820
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، كَانَ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ : صَدَقَ وَبَرَّ، وَكَذَبَ وَفَجَرَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے (بخاری مسلم نے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے): لازم جانوں تم سچ بولنے کو، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، اور بچو تم جھوٹ سے، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں: فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔
حدیث نمبر: 1821
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ : مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ، فَقَالَ لُقْمَانُ : صِدْقُ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ، وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت لقمان علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی؟ حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا: سچ بولنے سے، امانت داری سے، اور لغو کام چھوڑ دینے سے۔
حدیث نمبر: 1822
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَتُنْكَتُ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهُ كُلُّهُ، فَيُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَاذِبِينَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہمشہ آدمی جھوٹ بولا کرتا ہے، پہلے اس کے دل میں ایک نکتہ سیاہ ہوتا ہے، پھر سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ (اس کا نام) اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1823
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ "، فَقِيلَ لَهُ : " أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ "، فَقِيلَ لَهُ : " أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا ؟ فَقَالَ : لَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا: کیا مؤمن بودا بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر پوچھا: کیا مؤمن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر پوچھا: کیا مؤمن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“