حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا " . أَوْ قَالَ : " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ز ید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی پورب (مشرق) سے آئے، انہوں نے خطبہ پڑھا، لوگ سن کر فریفتہ ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض بیان جادو کا اثر رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1812
وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، كَانَ يَقُولُ : لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَاب، وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِكُمْ كَأَنَّكُمْ عَبِيدٌ، فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًى وَمُعَافًى فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَاءِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَى الْعَافِيَةِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: مت باتیں کرو بے کار سوائے یادِ الہٰی کے کہ کہیں سخت ہو جائیں دل تمہارے، اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے۔ اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم ہی رب ہو، اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں، بعض بیمار ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر۔
حدیث نمبر: 1813
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَتَقُولُ : " أَلَا تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعد نمازِ عشاء کے اپنے (گھر کے) لوگوں سے کہلا بھیجتیں: اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو۔