حدیث نمبر: 1782
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے ابو طیبہ کے ہاتھ سے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کر دیں۔
حدیث نمبر: 1783
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنْ كَانَ دَوَاءٌ يَبْلُغُ الدَّاءَ، فَإِنَّ الْحِجَامَةَ تَبْلُغُهُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی، تو وہ پچھنے ہوتے۔“
حدیث نمبر: 1784
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى قَالَ : " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ " يَعْنِي رَقِيقَكَ
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابو طیبہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا (مگر یہ ممانعت تنزیہاً ہے اکثر علماء کے نزدیک)۔ وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔“