کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرَوَّعُ فِي مَنَامِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ: میں ڈرتا ہوں سوتے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پڑھ لیا کر «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ، مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے، اس کے غصّے اور عذاب سے، اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطانوں کے وسوسوں سے، اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1732
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع حسن لغيره
تخریج حدیث «مرفوع حسن لغيره، أخرجه أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3364، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 931
وله شواهد من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص، فأما حديث عبد الله بن عمرو بن العاص، أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3893، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3528، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6810، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24013، 24071، 30237، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 10533، 10534، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2017، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 1733
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ، كُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَفَلَا " أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى "، فَقَالَ جِبْرِيلُ : فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللَّاتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا، گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا آتا تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، سکھاؤ۔“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کہو! « أَعُوذُ بِوَجْهِ اللّٰهِ الْكَرِيمِ ....» یعنی: پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے منہ (یعنی ذات) سے جو بڑا عزت والا ہے، اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں، جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا (یعنی ان سے زیادہ علم نہیں رکھتا)، برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے، اور جو آسمان کی طرف چڑھے، اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں، اور جو نکلے زمین سے، اور رات دن کے فتنوں سے، اور شب و روز کی آفتوں سے، اور حادثوں سے، مگر جو حادثہ بہتر ہے اے رحمٰن۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1733
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع حسن لغيره
تخریج حدیث «مرفوع حسن لغيره، وأخرجه النسائی فى «الكبریٰ» برقم: 10726، 10793، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 43، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15539
وله شواهد من حديث عبد الرحمن بن خنبش التميمي، فأما حديث عبد الرحمن بن خنبش التميمي، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 15699، 15700، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24068، 30238، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6844
شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو شواہد کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 1734
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، قَالَ : مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ؟ " فَقَالَ : لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا: میں رات کو نہیں سویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں کس وجہ سے؟“ وہ بولا: مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» یعنی: پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے۔ تو بچھو تجھے کچھ نقصان نہ دیتا۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1734
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2709، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1020، 1021، 1022، 1036، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8374، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10346، 10347، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3898، 3899، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3604، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3518، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8867، عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19834، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24023، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 1735
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ ، قَالَ : " لَوْلَا كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا "، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا هُنَّ ؟ فَقَالَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار (بڑے عالم تھے یہودیوں کے پھر مسلمان ہو گئے) نے کہا: اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی (جادو کر کے) مجھے گدھا بنا دیتے۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کلمات کیا ہیں؟ کعب نے کہا: «أَعُوذُ بِوَجْهِ اللّٰهِ الْعَظِيمِ ......» یعنی: ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ (یعنی ذات) سے جو بڑی عظمت والا ہے، نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر، اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا (یعنی ان سے زیادہ علم نہیں رکھتا)، اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنیٰ (اچھے ناموں) سے جن کو میں جانتا ہوں، اور جن کو میں نہیں جانتا، اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا، پیدا کیا اور پھیلایا۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1735
درجۂ حدیث محدثین: [مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19833، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29592، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 12»