کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: بیمار کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ، فَقَالَ : " انْظُرَا مَاذَا يَقُولُ لِعُوَّادِهِ ؟ " فَإِنْ هُوَ إِذَا جَاءُوهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، رَفَعَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُ : " لِعَبْدِي عَلَيَّ إِنْ تَوَفَّيْتُهُ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ أَنَا شَفَيْتُهُ أَنْ أُبْدِلَ لَهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، وَأَنْ أُكَفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے، اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں۔ اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہُ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہُ کے پاس، اور وہ خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے، بعد اس کے فرماتا ہے: اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلا لوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا، اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا، اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1709
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح لغيره
تخریج حدیث «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 9941، 9942، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1290، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 5»
حدیث نمبر: 1710
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةُ إِلَّا قُصَّ بِهَا أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ " . لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيُّهُمَا قَالَ عُرْوَةُ
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”مؤمن کو کوئی رنج یا مصیبت لاحق نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کے گناہ (صغیرہ) معاف کئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر لگے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔“ یزید نے کہا: مجھے یہ یاد نہیں کہ عروہ نے «قُصَّ» اور «كُفِّرَ» میں سے کونسا لفظ استعمال کیا تھا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1710
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5640، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2572، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2906، 2919، 2925، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1282، 1288، 7996، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7443، 7444، 7445، 7487، والترمذي فى «جامعه» برقم: 965، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6634، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25080، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1711
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَاب سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جس شخص کے ساتھ اللہ جل جلالہُ بہتری کرنا چاہتا ہے اس پر مصیبتیں ڈالتا ہے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1711
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5645، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2907، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7478، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7234، والبزار فى «مسنده» برقم: 8215، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 7»
حدیث نمبر: 1712
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ : هَنِيئًا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ " وَمَا يُدْرِيكَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ يُكَفِّرُ بِهِ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص مر گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ایک شخص بولا: واہ! کیا اچھی موت ہوئی، نہ کچھ بیماری ہوئی نہ کچھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا یہ کیا کہتا ہے، تجھے کیا معلوم ہے کہ اگر اللہ جل جلالہُ اس کو کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1712
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع ضعيف
تخریج حدیث «مرفوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 8»