کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1675
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے (یا سونے کے) برتن میں پیئے (یا کھائے) وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1676
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ : نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ؟ ثُمَّ تَنَفَّسْ "، قَالَ : فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فِيهِ، قَالَ : " فَأَهْرِقْهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابومثنیٰ جہنی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آئے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونکنے سے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا، تو آپ نے فرمایا: ”پیالے کو اپنے منہ سے جدا کر کے سانس لے لیا کر۔“ پھر وہ شخص بولا: میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بہا دے۔“