حدیث نمبر: 1662
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ : عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ، وَعَنْ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَعَنْ أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباسوں سے، اور دو بیعوں سے، ایک بیع ملامسہ، اور دوسرے بیع منابذہ سے، اور ایک کپڑا اوڑھ کر احتباء کرنے سے، جب کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو، اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے۔
حدیث نمبر: 1663
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَاب الْمَسْجِدِ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَسَوْتَنِيهَا، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا "، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک کپڑا ریشمی بکتا ہوا دیکھا مسجد کے دروازے پر، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد کے لوگ آیا کرتے ہیں پہنا کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کپڑے کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصّہ نہیں ہے۔“ پھر اسی قسم کے چند کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کپڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطارد (بن حاجب نام ہے ایک شخص کا) کے کپڑے کی بابت فرمایا تھا کہ اس کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصّہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے یہ کپڑا پہننے کو تھوڑی دیا ہے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کپڑا اپنے ایک کافر بھائی (عثمان بن حکیم) کو دے دیا جو مکّہ میں تھا۔
حدیث نمبر: 1664
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ رَقَعَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِرِقَاعٍ ثَلَاثٍ لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب کہ وہ امیر المؤمنین تھے، ان کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کرتے میں تین پیوند لگے تھے، ایک کے اوپر ایک۔