حدیث نمبر: 1659
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ چلے تم میں کوئی ایک جوتی پہن کر، چاہیے کہ دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔“
حدیث نمبر: 1660
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، وَلْتَكُنْ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب جوتا پہنے کوئی تم میں سے تو چاہیے کہ داہنے پیر میں اوّل پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے، تو داہنا پیر پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں رہے۔“
حدیث نمبر: 1661
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ : أَنّ رَجُلًا نَزَعَ نَعْلَيْهِ، فَقَالَ : " لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ ؟ لَعَلَّكَ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ : فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى سورة طه آية 12 "، قَالَ : ثُمَّ قَالَ كَعْبٌ لِلرَّجُلِ : " أَتَدْرِي مَا كَانَتْ نَعْلَا مُوسَى ؟ " ¤قَالَ مَالِك : لَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ كَعْبٌ : " كَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ "
علامہ وحید الزماں
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری۔ کعب الاحبار نے کہا: تم نے کیوں جوتیاں اتاریں؟ شاید تم نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی، اللہ جل جلالہُ نے موسیٰ علیہ السلام سے جب وہ طور پر جانے لگے، فرمایا: «﴿فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ﴾» ”اتار جوتیاں اپنی“، مگر تو جانتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں کاہے کی تھیں؟
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ مجھے معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا۔ کعب نے کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ مجھے معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا۔ کعب نے کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں۔