حدیث نمبر: 1640
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات ترک کرے، یعنی اس کو چھوڑ دے تین دن سے زیادہ (یعنی تین روز سے زیادہ رنج رکھے)، یا یہ ملے تو وہ نہ دیکھے، یا وہ ملے تو یہ نہ دیکھے، بہتر ان دونوں میں وہ ہے جو پہلے سلام علیک کرے۔“
حدیث نمبر: 1641
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ " . قَالَ مَالِك : لَا أَحْسِبُ التَّدَابُرَ إِلَّا الْإِعْرَاضَ عَنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ فَتُدْبِرَ عَنْهُ بِوَجْهِكَ .
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بغض کرو، مت حسد کرو، مت پیٹھ پھیرو ایک دوسرے سے، بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی، نہیں درست ہے کسی مسلمان کو کہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے تین راتوں سے زیادہ۔“
حدیث نمبر: 1642
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”بچو تم بد گمانی سے کیونکہ بد گمانی بڑا جھوٹ ہے، اور مت کھوج لگاؤ (لوگوں کی برائیوں کی یا عیبوں کی)، اور مت تفتیش کرو، اور مت حرص کرو دنیا کی، اور مت حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو، بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔“
حدیث نمبر: 1643
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَافَحُوا يَذْهَبْ الْغِلُّ، وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ "
علامہ وحید الزماں
عطاء بن عبداللہ خراسانی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”مصافحہ کرو ایک دوسرے سے، دل کا کینہ جاتا رہے گا، ہدیہ بھیجو ایک دوسرے کو، دوست ہو جاؤ گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔“
حدیث نمبر: 1644
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں پیر اور جمعرات کے روز، تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے، مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں، ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں۔“ (یعنی جب تک آپس میں ملاپ نہ کریں ان کی مغفرت نہیں ہوتی)۔
حدیث نمبر: 1645
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز بندوں کے اعمال دیکھے جاتے ہیں، پھر ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے، مگر وہ بندہ جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو، تو حکم ہوتا ہے کہ ابھی ان دونوں کو رہنے دو، یہاں تک کہ مل جائیں۔