حدیث نمبر: 1602
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ، فَقَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَأَنَا أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کا پہاڑ دکھائی دیا کہ ”یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم بھی اس کو چاہتے ہیں، اے میرے رب! ابراہیم (علیہ السلام) نے حرام کیا مکّہ کو (یعنی حرام کیا وہاں شکار کرنے کو اور لڑنے جھگڑنے اور قتال کو، اور وہاں کے درخت یا گھاس اکھیڑنے کو) اور میں حرام کرتا ہوں مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کو۔“
حدیث نمبر: 1603
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے: اگر میں ہرنوں کو چرتے ہوئے دیکھوں مدینہ میں تو ہرگز نہ چھیڑوں ان کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے دونوں کنارے حرام ہیں۔“
حدیث نمبر: 1604
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ، قَالَ مَالِك : لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَفِي حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا ؟ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے لڑکوں کو دیکھا انہوں نے ایک لومڑی کو گھیر رکھا تھا ایک کونے میں، تو آپ نے لڑکوں کو ہنکا دیا اور لومڑی کو چھوڑ دیا (کیونکہ مدینہ کے جانور کو پکڑنا حرام ہے جیسے مکّہ میں)۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے؟
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 1605
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالْأَسْوَافِ " قَدْ اصْطَدْتُ نُهَسًا، فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ "
علامہ وحید الزماں
ایک شخص (شرجیل بن سعد) سے روایت ہے کہ میرے پاس سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے اور میں اسواف (ایک موضع ہے اطراف مدینہ میں) میں تھا، اور میں نے شکار کیا تھا ایک چڑیا کا۔ انہوں نے میرے ہاتھ سے اس کو لے کر چھوڑ دیا۔