حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹا ایک ڈھال کی چوری میں، جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 1563
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، وَلَا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ أَوِ الْجَرِينُ، فَالْقَطْعُ فِيمَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْمِجَنِّ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن عبدالرحمٰن مکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میوہ درخت پر لٹکتا ہو، یا جو بکری پہاڑ پر پھرتی ہو، اس کے اٹھا لینے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، مگر جب وہ بکری اپنے گھر میں آجائے، یا میوہ کاٹ کر کھانے کو کہیں رکھا جائے، پھر اس کو کوئی چرائے تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ قیمت اس کی ڈھال کے برابر ہو۔“ (یعنی تین درہم ہو یا زیادہ ہو)۔
حدیث نمبر: 1564
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنّ سَارِقًا سَرَقَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ أُتْرُجَّةً، فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ " أَنْ تُقَوَّمَ، فَقُوِّمَتْ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ مِنْ صَرْفِ اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا بِدِينَارٍ، فَقَطَعَ عُثْمَانُ يَدَهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ترنج (لیموں یا کھٹا یا از قسم سنترہ کوئی پھل) چرایا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی قیمت لگوائی، وہ تین درہم کا نکلا بارہ درہم فی دینار کے حساب سے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹا۔
حدیث نمبر: 1565
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا طَالَ عَلَيَّ وَمَا نَسِيتُ الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابھی کچھ زیادہ زمانہ نہیں ہوا اور نہ میں بھولی ہوں کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار میں یا زیادہ میں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1566
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، وَمَعَهَا مَوْلَاتَانِ لَهَا وَمَعَهَا غُلَامٌ لِبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَبَعَثَتْ مَعَ الْمَوْلَاتَيْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ قَدْ خِيطَ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ، قَالَتْ : فَأَخَذَ الْغُلَامُ الْبُرْدَ، فَفَتَقَ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً وَخَاطَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلَاتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا الْبُرْدَ، فَكَلَّمُوا الْمَرْأَتَيْنِ، فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَتَبَتَا إِلَيْهَا، وَاتَّهَمَتَا الْعَبْدَ، فَسُئِلَ الْعَبْدُ عَنْ ذَلِكَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ : " الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
علامہ وحید الزماں
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکّہ کو گئیں، ان کے ساتھ دو لونڈیاں تھیں ان کی آزاد کی ہوئی (مولاۃ) اور ایک غلام تھا عبداللہ بن ابی بکر کی اولاد کا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مکّہ سے ان دو لونڈیوں کے ہاتھ ایک چادر بھیجی، جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں مردوں کی، ایک سبز کپڑے میں لپیٹ کر سی دیا تھا۔ اس غلام نے کیا کیا کپڑے کی سیون ادھیڑ کر اس میں سے چادر نکال لی اور اس کی جگہ ایک تھیلا یا پوستین رکھ دی اور پھر سی دیا، جب وہ لونڈیاں مدینہ کو آئیں اور وہ امانت جن کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا سپرد کی، انہوں نے ادھیڑ کر دیکھا تو نمدہ ہے چادر نہیں ہے، لونڈیوں سے پوچھا، لونڈیوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا یا ان کولکھ بھیجا، اور اپنا گمان غلام پرظاہر کیا، جب غلام سے پوچھا گیا تو اس نے اقرار کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا، اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: چوتھائی دینار یا زیادہ میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1566B1
وَقَالَ مَالِك : أَحَبُّ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ إِلَيَّ : ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، وَإِنِ ارْتَفَعَ الصَّرْفُ أَوِ اتَّضَعَ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " . وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَطَعَ فِي أُتْرُجَّةٍ قُوِّمَتْ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک جب چور تین درہم کا مال چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹنا لازم ہوگا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال میں باتھ کھاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کاٹا ایک ترنج (ازقسم لیموں ایک پھل) میں جس کی قیمت تین درہم ہوئی، یہ میں نے سب سے اچھا سنا۔