کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جس عورت کو کوئی چھین لے جائے اور جبراً اس سے جماع کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1557B1
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عورت حاملہ ہو جائے اور اس کا خاوند نہ ہو، پھر وہ کہنے لگے کہ مجھ سے زبردستی کسی نے جماع کیا تھا، یا میں نے نکاح کیا تھا، تو یہ قول اس کا قبول نہ کیا جائے گا، بلکہ حد ماری جائے گی جب تک کہ اس نکاح پر گواہ نہ لائے، یا اپنی مجبوری کا ثبوت نہ دے گواہوں سے یا قرینے سے، مثلاً باکرہ (کنواری) ہو تو چلی آئے فریاد کرتی ہوئی اس حال میں کہ خون نکل رہا ہو اس کی شرمگاہ سے، یا چلانے لگے یہاں تک کہ لوگ آجائیں۔ بغیر ان باتوں کے اس کا قول مقبول نہ ہوگا اور حد پڑے گی۔
حدیث نمبر: 1557B2
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس عورت سے زبردستی کوئی جماع کرے تو وہ نکاح نہ کرے جب تک کہ اس کو تین حیض نہ آ لیں، اگر حمل کا شبہ ہو تو بھی نکاح نہ کرے جب تک کہ یہ شبہ دور نہ ہو۔