حدیث نمبر: 1540Q10
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب خون کے وارث دیت کو قبول کر لیں تو اس کی تقسیم موافق کتاب اللہ کے ہوگی، دیت کے وارث مقتول کی بیٹیاں اور بہنیں اور جتنی عورتیں ترکہ پاتی ہیں وہ ہوں گی، اگر عورتوں کے حصّے ادا کر کے کچھ بچ رہے تو جو عصبہ قریب ہوگا وہ مابقی (یعنی باقی) کا وارث ہوگا۔
حدیث نمبر: 1540Q11
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مقتول کے بعض ورثاء غائب ہوں اور بعض حاضر، جو حاضر ہوں وہ یہ چاہیں کہ اپنے حصّے کی قسمیں کھا کر دیت کا حصّہ وصول کر لیں، تو یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ پوری قسمیں نہیں کھائیں گے، اگر پوری پچاس قسمیں کھا لیں تو دیت میں سے اپنا حصّہ لے سکتے ہیں، کیونکہ خون ثابت نہیں ہوتا بغیر پچاس قسموں کے، اور جب تک خون ثابت نہ ہو دیت لازم نہیں آتی، اب جو ورثاء غائب تھے ان میں سے اگر کوئی آ جائے تو وہ اپنے حصّے کے موافق قسمیں کھا کر دیت میں سے اپنا حصّہ لے لے، یہاں تک کہ سب وارثوں کا حق پورا ہوجائے۔ اگر اخیانی بھائی آئے تو پچاس قسموں کا چھٹا حصّہ جو ہو اتنی ہی قسمیں کھائے اور اپنا حصّہ لے لے، اگر انکار کرے گا تو اس کا حصّہ باطل ہوگا، اگر بعض ورثاء غائب ہوں جو نابالغ ہوں تو جو حاضر ہیں ان سے پچاس قسمیں لی جائیں گی، اور جو غائب ہے وہ جب آئے گا اس سے بھی اس کے حصّے کے موافق قسمیں لی جائیں گی، اور جب وہ نابالغ بالغ ہوجائے وہ بھی اپنے حصّے کے موافق قسم کھائے، یہ میں نے اچھا سنا۔