کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: زخموں میں قصاص کا بیان
حدیث نمبر: 1536Q5
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، دیت لازم نہ آئے گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q5
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق3»
حدیث نمبر: 1536Q6
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہو لے، جب وہ اچھا جائے گا تو قصاص لیں گے، اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر، نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مر گیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا، اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا، تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q6
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق3»
حدیث نمبر: 1536Q7
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی، یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا، یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصداً، تو اس سے قصاص لیا جائے گا، البتہ اگر اپنی عورت کو تنبیہاً رسی یا کوڑے سے مارے اور بلا قصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہو جائے، یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q7
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق3»
حدیث نمبر: 1536
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ " أَقَادَ مِنْ كَسْرِ الْفَخِذِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ابوبکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وانفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق4»