کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: قتل عمد میں عفو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1536Q1
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے کئی اچھے عالموں سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ جب مقتول مرتے وقت اپنے قاتل کو معاف کر دے تو درست ہے، قتلِ عمد میں اس کو اپنے خون کا زیادہ اختیار ہے وارثوں سے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق2»
حدیث نمبر: 1536Q2
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص قاتل کو قتلِ عمد معاف کر دے تو قاتل پر دیت لازم نہ ہوگی، مگر جب کہ قصاص عفو (معاف) کر کے دیت ٹھہرا لے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق2»
حدیث نمبر: 1536Q3
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر قاتل کو مقتول معاف کر دے تب بھی قاتل کو سو کوڑے لگائیں گے، اور ایک سال تک قید کریں گے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق2»
حدیث نمبر: 1536Q4
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص عمداً مارا گیا، اور گواہوں سے قتل ثابت ہوا، اور مقتول کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، بیٹوں نے تو معاف کر دیا لیکن بیٹیوں نے معاف نہ کیا، تو بیٹیوں کے معاف نہ کرنے سے کچھ خلل واقع نہ ہوگا، بلکہ خون معاف ہوجائے گا، کیونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کو اختیار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1536Q4
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق2»