حدیث نمبر: 1532
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ، وَقَالَ عُمَرُ : " لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قتل کیا، انہوں نے دھوکا دے کر اس کو مار ڈالا تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر سارے صنعا والے اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔
حدیث نمبر: 1533
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَتَلَتْ جَارِيَةً لَهَا سَحَرَتْهَا وَقَدْ كَانَتْ دَبَّرَتْهَا، فَأَمَرَتْ بِهَا فَقُتِلَتْ " .
علامہ وحید الزماں
ُم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو قتل کیا جس نے ان پر جادو کیا تھا، اور پہلے آپ رضی اللہ عنہا اس کو مدبر کر چکی تھیں، پھر حکم کیا اس کے قتل کا تو قتل کی گئی۔
حدیث نمبر: 1533B1
قَالَ مَالِك : السَّاحِرُ الَّذِي يَعْمَلُ السِّحْرَ وَلَمْ يَعْمَلْ ذَلِكَ لَهُ غَيْرُهُ، هُوَ مَثَلُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ : وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ سورة البقرة آية 102، فَأَرَى أَنْ يُقْتَلَ ذَلِكَ إِذَا عَمِلَ ذَلِكَ هُوَ نَفْسُهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص جادو جانتا ہے اور اس کو کام میں لاتا ہے، اس کا قتل کرنا مناسب ہے۔