حدیث نمبر: 1517
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ : مَاذَا فِي الضِّرْسِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : " فِيهِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ "، قَالَ : فَرَدَّنِي مَرْوَانُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ : أَتَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الْأَضْرَاسِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : " لَوْ لَمْ تَعْتَبِرْ ذَلِكَ إِلَّا بِالْأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے ان کو بھیجا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کو کہ ڈاڑھ میں کیا دیت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پانچ اونٹ ہیں۔ مروان نے پھر ان کو بھیجا اور کہلایا کہ کیا دانت سامنے کے اور ڈاڑھیں دیت میں برابر ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تو دانتوں کو انگلیوں پر قیاس کر لیتا تو کافی تھا، ہر ایک انگلی کی دیت ایک ہی ہے (اگرچہ منفعت کسی سے کم ہے کسی سے زیادہ، ایسا ہی دانت اور ڈاڑھ بھی سب یکساں ہیں)۔
حدیث نمبر: 1518
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ " يُسَوِّي بَيْنَ الْأَسْنَانِ فِي الْعَقْلِ وَلَا يُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ اگلے زمانے میں سب دانتوں کی دیت برابر تھی، کوئی دوسرے پر زیادہ نہ تھی۔
حدیث نمبر: 1518B1
قَالَ مَالِك : وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مُقَدَّمَ الْفَمِ وَالْأَضْرَاسِ وَالْأَنْيَابِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي السِّنِّ : " خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ "، وَالضِّرْسُ سِنٌّ مِنَ الْأَسْنَانِ، لَا يَفْضُلُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ دانت اور کچلیاں اور داڑھیں سب برابر ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت میں پانچ اونٹ کا حکم کیا، داڑھ بھی ایک دانت ہے۔