کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: اسباب میں عیب نکلنے کا بیان اور اس کا تاوان کس پر ہے
حدیث نمبر: 1474Q1
قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ السِّلْعَةَ مِنَ الْحَيَوَانِ أَوِ الثِّيَابِ أَوِ الْعُرُوضِ : فَيُوجَدُ ذَلِكَ الْبَيْعُ غَيْرَ جَائِزٍ فَيُرَدُّ وَيُؤْمَرُ الَّذِي قَبَضَ السِّلْعَةَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى صَاحِبِهِ سِلْعَتَهُ. قَالَ مَالِكٌ : فَلَيْسَ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ إِلَّا قِيمَتُهَا يَوْمَ قُبِضَتْ مِنْهُ وَلَيْسَ يَوْمَ يَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ. وَذَلِكَ أَنَّهُ ضَمِنَهَا مِنْ يَوْمَ قَبَضَهَا. فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ نُقْصَانٍ بَعْدَ ذَلِكَ. كَانَ عَلَيْهِ. فَبِذَلِكَ كَانَ نِمَاؤُهَا وَزِيَادَتُهَا لَهُ. وَإِنَّ الرَّجُلَ يَقْبِضُ السِّلْعَةَ فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ نَافِقَةٌ مَرْغُوبٌ فِيهَا ثُمَّ يَرُدُّهَا فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ سَاقِطَةٌ لَا يُرِيدُهَا أَحَدٌ فَيَقْبِضُ الرَّجُلُ السِّلْعَةَ مِنَ الرَّجُلِ فَيَبِيعُهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ. وَيُمْسِكُهَا وَثَمَنُهَا ذَلِكَ. ثُمَّ يَرُدُّهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَذْهَبَ مِنْ مَالِ الرَّجُلِ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ يَقْبِضُهَا مِنْهُ الرَّجُلُ فَيَبِيعُهَا بِدِينَارٍ. أَوْ يُمْسِكُهَا. وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ. ثُمَّ يَرُدُّهَا وَقِيمَتُهَا يَوْمَ يَرُدُّهَا عَشَرَةُ دَنَانِيرَ. فَلَيْسَ عَلَى الَّذِي قَبَضَهَا أَنْ يَغْرَمَ لِصَاحِبِهَا مِنْ مَالِهِ تِسْعَةَ دَنَانِيرَ. إِنَّمَا عَلَيْهِ قِيمَةُ مَا قَبَضَ يَوْمَ قَبْضِهِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص جانور یا کپڑا یا اور کوئی اسباب خریدے، پھر یہ بیع ناجائز معلوم ہو اور مشتری کو حکم ہو کہ وہ چیز بائع کو پھیر دے (حالانکہ اس شئے میں کوئی عیب ہو جائے)، تو بائع کو اس شئے کی قیمت ملے گی اس دن کی جس دن کہ وہ شئے مشتری کے قبضے میں آئی تھی، نہ کہ اس دن کی جس دن وہ پھیرتا ہے، کیونکہ جس دن سے وہ شئے مشتری کے قبضے میں آئی تھی اس دن سے وہ اس کا ضامن ہو گیا تھا، اب جو کچھ اس میں نقصان ہو جائے وہ اسی پر ہوگا، اور جو کچھ زیادتی ہو جائے وہ بھی اسی کی ہوگی، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مال ایسے وقت میں لیتا ہے جب اس کی قدر اور تلاش ہو، پھر اس کو ایسے وقت میں پھیر دیتا ہے جب کہ وہ بے قدر ہو، کوئی اس کو نہ پوچھے، تو آدمی ایک شئے خریدتا ہے دس دینار کو، پھر اس کو رکھ چھوڑتا ہے، اور پھیرتا ہے ایسے وقت میں جب اس کی قیمت ایک دینار ہو، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ بے چارے بائع کا نو دینار کا نقصان کرے، یا جس دن خریدا اسی دن اس کی قیمت ایک دینار تھی، پھر پھیرتے وقت اس کی قیمت دس دینار ہوگئی، تو بائع مشتری کو ناحق نو دینار کا نقصان دے، اسی واسطے وہ قیمت اس دن کی واجب ہوئی جس دن کہ وہ شئے مشتری کے قبضے میں آئی ہو۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1474Q1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 7»
حدیث نمبر: 1474Q2
قَالَ مَالِكٌ : وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ السَّارِقَ إِذَا سَرَقَ السِّلْعَةَ فَإِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَى ثَمَنِهَا يَوْمَ يَسْرِقُهَا. فَإِنْ كَانَ يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ كَانَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَإِنِ اسْتَأْخَرَ قَطْعُهُ إِمَّا فِي سِجْنٍ يُحْبَسُ فِيهِ حَتَّى يُنْظَرَ فِي شَأْنِهِ وَإِمَّا أَنْ يَهْرُبَ السَّارِقُ ثُمَّ يُؤْخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَيْسَ اسْتِئْخَارُ قَطْعِهِ بِالَّذِي يَضَعُ عَنْهُ حَدًّا قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ سَرَقَ وَإِنْ رَخُصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ. وَلَا بِالَّذِي يُوجِبُ عَلَيْهِ قَطْعًا لَمْ يَكُنْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَخَذَهَا إِنْ غَلَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی دلیل یہ ہے کہ چور جب کسی کا اسباب چرائے تو اس کی قیمت چوری کے روز کی لگائی جائے گی، تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ورنہ نہیں، اگر اس کا ہاتھ کاٹنے میں دیر ہوئی اور اس چیز کی قیمت گھٹ بڑھ گئی تو اس کا اعتبار نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1474Q2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 7»