کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: زندہ شخص مردے کی طرف سے صدقہ دے تو مردے کو ثواب پہچنتا ہے
حدیث نمبر: 1465
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا : أَوْصِي . فَقَالَتْ : فِيمَ أُوصِي ؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ . فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، " هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " . فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا، لِحَائِطٍ سَمَّاهُ
علامہ وحید الزماں
حضرت شرجیل بن سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کو نکلے، ان کی ماں مدینہ میں مرنے لگیں، لوگوں نے ان سے کہا: وصیت کرو، انہوں نے کہا: کیا وصیت کروں، مال تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا ہے۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے آنے سے پہلے مر گئیں۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے، لوگوں نے بیان کیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اپنی ماں کی طرف سے اللہ واسطے دوں تو اس کو فائدہ ہوگا؟ رسول اللہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں فلاں باغ صدقہ ہے میری ماں کی طرف سے۔
حدیث نمبر: 1466
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ " أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ سے رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری ماں کا دم یکایک نکل گیا، اگر بات کر پاتی تو ضرور صدقہ کرتی، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1467
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ تَصَدَّقَ عَلَى أَبَوَيْهِ بِصَدَقَةٍ، فَهَلَكَا فَوَرِثَ ابْنُهُمَا الْمَالَ وَهُوَ نَخْلٌ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " قَدْ أُجِرْتَ فِي صَدَقَتِكَ، وَخُذْهَا بِمِيرَاثِكَ "
علامہ وحید الزماں
ایک شخص انصاری نے اپنے والدین کو کھجور کے درخت صدقہ میں دئیے، پھر والدین مر گئے تو وہی شخص اس کا وارث ہوا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے صدقہ کا ثواب ہوا، اب میراث میں اس کو لے لے۔“