حدیث نمبر: 1445
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا یحییٰ مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ ضرر ہے اسلام میں نہ ضرار۔“
حدیث نمبر: 1446
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ جَارَهُ خَشَبَةً يَغْرِزُهَا فِي جِدَارِهِ " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ منع کرے تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو لکڑی گاڑنے سے اپنی دیوار میں۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: کیا وجہ ہے کہ تم اس حدیث کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے، قسم اللہ کی! میں اس کو خوب مشہور کروں گا۔
حدیث نمبر: 1447
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ، فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ : لِمَ تَمْنَعُنِي وَهُوَ لَكَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَلَا يَضُرُّكَ ؟ فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَا . فَقَالَ عُمَرُ : " لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ، تَسْقِي بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَهُوَ لَا يَضُرُّكَ ؟ " فَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَا وَاللَّهِ . فَقَالَ عُمَرُ : " وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ " . فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فَفَعَلَ الضَّحَّاكُ
علامہ وحید الزماں
یحییٰ مازنی سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے ایک نہر نکالی عریض (ایک وادی ہے مدینہ میں) میں سے، محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر، انہوں نے منع کیا۔ ضحاک نے کہا: تم کیوں منع کرتے ہو، تمہارا تو اس میں نفع ہے، اپنی زمین کو اوّل اور آخر پانی دیا کرنا اور کچھ ضرر نہیں۔ محمد نہ مانا۔ ضحاک نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کو بلا کر کہا: تم اجازت دو۔ محمد نے کہا: میں نہ دوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے بھائی مسلمان کو ایسی بات سے منع کرتے ہو جس میں اس کا نفع ہے اور تمہارا بھی نفع ہے، تم بھی پانی لیا کرنا اوّل اور آخر میں اور تمہارا کچھ ضرر نہیں۔ محمد نے کہا: قسم اللہ کی! میں اجازت نہ دونگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ نہر بہائی جائے اگرچہ تمہارے پیٹ پر سے ہو۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ضحاک کو حکم کیا: نہر جاری کرنے کا محمد بن مسلمہ کی زمین سے ہو کر۔ ضحاک نے ایسا ہی کیا۔
حدیث نمبر: 1448
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ فِي حَائِطِ جَدِّهِ، رَبِيعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنْ يُحَوِّلَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْحَائِطِ هِيَ أَقْرَبُ إِلَى أَرْضِهِ، فَمَنَعَهُ صَاحِبُ الْحَائِطِ، فَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي ذَلِكَ، " فَقَضَى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِتَحْوِيلِهِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ مازنی سے روایت ہے کہ میرے دادا کے باغ میں سے ہو کر ایک نہر بہتی تھی عبدالرحمٰن بن عوف کی۔ عبدالرحمٰن نے یہ چاہا کہ اس کو باغ کی دوسری طرف سے لے جائیں کیونکہ وہ قریب تھا ان کی زمین سے، لیکن باغ کے مالک یعنی میرے داد نے اجازت نہ دی۔ عبدالرحمٰن نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔