کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جو لڑکا کسی شخص سے ملایا جائے اس کی وارث ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1438Q1
قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، فِي الرَّجُلِ يَهْلِكُ وَلَهُ بَنُونَ. فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ : قَدْ أَقَرَّ أَبِي أَنَّ فُلَانًا ابْنُهُ : إِنَّ ذَلِكَ النَّسَبَ لَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ إِنْسَانٍ وَاحِدٍ. وَلَا يَجُوزُ إِقْرَارُ الَّذِي أَقَرَّ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ فِي حِصَّتِهِ مِنْ مَالِ أَبِيهِ. يُعْطَى الَّذِي شَهِدَ لَهُ قَدْرَ مَا يُصِيبُهُ مِنَ الْمَالِ الَّذِي بِيَدِهِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے، ایک شخص مر جائے اور کئی بیٹے چھوڑ جائے، اب ایک بیٹا ان میں سے یہ کہے کہ میرے باپ نے یہ کہا تھا کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے، تو ایک آدمی کے کہنے سے اس کا نسب ثابت نہ ہوگا، اور وارثوں کے حصّوں میں سے اس کو کچھ نہ ملے گا، البتہ جس نے اقرار کیا ہے اس کے حصّے میں سے اس کو ملے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1438Q1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 24ق»
حدیث نمبر: 1438Q2
قَالَ مَالِكٌ : وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يَهْلِكَ الرَّجُلُ، وَيَتْرُكَ ابْنَيْنِ لَهُ، وَيَتْرُكَ سِتَّمِائَةِ دِينَارٍ، فَيَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ، ثُمَّ يَشْهَدُ أَحَدُهُمَا أَنَّ أَبَاهُ الْهَالِكَ أَقَرَّ أَنَّ فُلَانًا ابْنُهُ. فَيَكُونُ عَلَى الَّذِي شَهِدَ لِلَّذِي اسْتُلْحِقَ، مِائَةُ دِينَارٍ. وَذَلِكَ نِصْفُ مِيرَاثِ الْمُسْتَلْحَقِ، لَوْ لَحِقَ. وَلَوْ أَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ أَخَذَ الْمِائَةَ الْأُخْرَى. فَاسْتَكْمَلَ حَقَّهُ وَثَبَتَ نَسَبُهُ. وَهُوَ أَيْضًا بِمَنْزِلَةِ الْمَرْأَةِ تُقِرُّ بِالدَّيْنِ عَلَى أَبِيهَا أَوْ عَلَى زَوْجِهَا. وَيُنْكِرُ ذَلِكَ الْوَرَثَةُ، فَعَلَيْهَا أَنْ تَدْفَعَ إِلَى الَّذِي أَقَرَّتْ لَهُ بِالدَّيْنِ قَدْرَ الَّذِي يُصِيبُهَا مِنْ ذَلِكَ الدَّيْنِ. لَوْ ثَبَتَ عَلَى الْوَرَثَةِ كُلِّهِمْ. إِنْ كَانَتِ امْرَأَةً وَرِثَتِ الثُّمُنَ، دَفَعَتْ إِلَى الْغَرِيمِ ثُمُنَ دَيْنِهِ، وَإِنْ كَانَتِ ابْنَةً وَرِثَتِ النِّصْفَ، دَفَعَتْ إِلَى الْغَرِيمِ نِصْفَ دَيْنِهِ. عَلَى حِسَابِ هَذَا يَدْفَعُ إِلَيْهِ مَنْ أَقَرَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ. ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی تفسیر یہ ہے ایک شخص مر جائے اور دو بیٹے چھوڑ جائے اور چھ سو دینار، ہر ایک بیٹا تین تین سو دینار لے، پھر ایک بیٹا یہ کہے کہ میرے باپ نے اقرار کیا تھا اس امر کا کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے، تو وہ اپنے حصّے میں سے اس کو سو دینار دے، کیونکہ ایک وارث نے اقرار کیا ایک نے اقرار نہ کیا، تو اس کو آدھا حصّہ ملے گا، اگر وہ بھی اقرار کر لیتا تو پورا حصّہ یعنی دو سو دینار ملتے اور نسب ثابت ہوجاتا، اس کی مثال یہ ہے ایک عورت اپنے باپ یا خاوند کے ذمے پر قرض کا اقرار کرے، اور باقی وارث انکار کریں، تو وہ اپنے حصّے کے موافق اس میں سے قرضہ ادا کرے، اسی حساب سے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1438Q2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 24ق»
حدیث نمبر: 1438Q3
قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ شَهِدَ رَجُلٌ عَلَى مِثْلِ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْمَرْأَةُ أَنَّ لِفُلَانٍ عَلَى أَبِيهِ دَيْنًا. أُحْلِفَ صَاحِبُ الدَّيْنِ مَعَ شَهَادَةِ شَاهِدِهِ. وَأُعْطِيَ الْغَرِيمُ حَقَّهُ كُلَّهُ. وَلَيْسَ هَذَا بِمَنْزِلَةِ الْمَرْأَةِ. لِأَنَّ الرَّجُلَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ. وَيَكُونُ عَلَى صَاحِبِ الدَّيْنِ، مَعَ شَهَادَةِ شَاهِدِهِ، أَنْ يَحْلِفَ. وَيَأْخُذَ حَقَّهُ كُلَّهُ. فَإِنْ لَمْ يَحْلِفْ أَخَذَ مِنْ مِيرَاثِ الَّذِي أَقَرَّ لَهُ، قَدْرَ مَا يُصِيبُهُ مِنْ ذَلِكَ الدَّيْنِ. لِأَنَّهُ أَقَرَّ بِحَقِّهِ. وَأَنْكَرَ الْوَرَثَةُ. وَجَازَ عَلَيْهِ إِقْرَارُهُ.
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک مرد بھی اس قرض خواہ کے قرضے کا گواہ ہو تو اس کو حلف دے کر ترکے میں سے پورا قرضہ دلادیں گے۔ کیونکہ ایک مرد جب گواہ ہو اور مدعی بھی حلف کرے تو دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے، البتہ اگر قرض خواہ حلف نہ کرے تو جو وارث اقرار کرتا ہے اسی کے حصّے کے موافق قرضہ وصول کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1438Q3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 24ق»