کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جانور کو رہن رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1428Q5
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ شئے مرہون اگر ایسی ہو جس کا تلف ہونا معلوم ہوجائے، جیسے زمین اور گھر اور جانور، تو اس صورت میں شئے مرہوں کے تلف ہونے سے مرتہن کا کچھ حق کم نہ ہوگا، بلکہ راہن کا نقصان ہوگا، اور جو شئے مرہون ایسی ہو جس کا تلف ہونا صرف مرتہن کے کہنے سے معلوم ہو (جیسے سونا چاندی وغیرہ)، تو مرتہن اس کی قیمت کا ضامن ہوگا (جس صورت میں گواہ نہ رکھتا ہو اس کے تلف ہونے کا)، اب اگر راہن اور مرتہن زرِ رہن میں اختلاف کریں تو مرتہن سے کہا جائے گا: تو حلفاً شئے مرہون کے اوصاف اور زرِ رہن کو بیان کر، جب وہ بیان کرے گا تو نگاہ والے لوگ اس شئے کی قیمت مرتہن نے جو اوصاف بیان کیے ہیں ان کے لحاظ سے لگائیں گے، اگر قیمت زرِ رہن سے زیادہ ہو تو رہن جس قدر زیادہ ہے مرتہن سے وصول کر لے گا، اگر قیمت زرِ رہن سے کم ہو تو راہن سے حلف لیں گے، اگر وہ حلف کر لے گا تو جس قدر مرتہن نے زرِ رہن قیمت سے زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، اور جو حلف سے انکار کرے تو اس قدر مرتہن کو ادا کرے گا، اگر مرتہن نے کہا: میں شئے مرہون کی قیمت نہیں جانتا تو راہن سے شئے مرہون کے اوصاف پر حلف لے کر اس کے بیان پر فیصلہ کریں گے، جب کہ وہ کوئی امر خلاف واقعہ بیان نہ کرے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جب ہے کہ شئے مرہون مرتہن کے پاس ہو اور اس نے دوسرے کے پاس نہ رکھوائی ہو (ورنہ مرتہن پر ضمان نہ ہوگا، اگرچہ وہ گواہ نہ لا سکے)۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1428Q5
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 14ق1»
حدیث نمبر: 1428Q6
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1428Q6
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 14ق1»