کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جس بیع میں بائع اور مشتری کو اختیار ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں، مگر جس بیع میں خیار کی شرط ہو۔“
حدیث نمبر: 1377B
قَالَ مَالِك : وَلَيْسَ لِهَذَا عِنْدَنَا حَدٌّ مَعْرُوفٌ، وَلَا أَمْرٌ مَعْمُولٌ بِهِ فِيهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک خیار کی کوئی مدت مقرر نہیں۔
حدیث نمبر: 1378
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " أَيُّمَا بَيِّعَيْنِ تَبَايَعَا، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ " .
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع اور مشتری اختلاف کریں تو بائع کا قول معتبر ہوگا اور بیع کا رد کر ڈالیں گے۔“
حدیث نمبر: 1378B1
قَالَ مَالِك فِيمَنْ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً، فَقَالَ الْبَائِعُ عِنْدَ مُوَاجَبَةِ الْبَيْعِ : أَبِيعُكَ عَلَى أَنْ أَسْتَشِيرَ فُلَانًا، فَإِنْ رَضِيَ فَقَدْ جَازَ الْبَيْعُ، وَإِنْ كَرِهَ فَلَا بَيْعَ بَيْنَنَا، فَيَتَبَايَعَانِ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ يَنْدَمُ الْمُشْتَرِي قَبْلَ أَنْ يَسْتَشِيرَ الْبَائِعُ فُلَانًا : إِنَّ ذَلِكَ الْبَيْعَ لَازِمٌ لَهُمَا عَلَى مَا وَصَفَا وَلَا خِيَارَ لِلْمُبْتَاعِ، وَهُوَ لَازِمٌ لَهُ إِنْ أَحَبَّ الَّذِي اشْتَرَطَ لَهُ الْبَائِعُ أَنْ يُجِيزَهُ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک چیز بیچی اور بیچتے وقت یہ شرط لگائی کہ میں فلانے سے مشورہ کروں گا، اگر اس نے اجازت دی تو بیع نافذ ہے، اور جو اس نے منع کیا تو بیع لغو ہے۔ مشتری اس شرط پر راضی ہوگیا، بعد اس کے پشیمان ہوا تو اس کو اختیار نہ ہوگا، بلکہ بائع کو جب وہ شخص اجازت دے گا تو بیع نافذ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 1378B2
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنَ الرَّجُلِ فَيَخْتَلِفَانِ فِي الثَّمَنِ، فَيَقُولُ الْبَائِعُ : بِعْتُكَهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَيَقُولُ الْمُبْتَاعُ : ابْتَعْتُهَا مِنْكَ بِخَمْسَةِ دَنَانِيرَ، إِنَّهُ يُقَالُ لِلْبَائِعِ : إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِهَا لِلْمُشْتَرِي بِمَا قَالَ، وَإِنْ شِئْتَ فَاحْلِفْ بِاللَّهِ مَا بِعْتَ سِلْعَتَكَ إِلَّا بِمَا قُلْتَ، فَإِنْ حَلَفَ قِيلَ لِلْمُشْتَرِي : إِمَّا أَنْ تَأْخُذَ السِّلْعَةَ بِمَا قَالَ الْبَائِعُ، وَإِمَّا أَنْ تَحْلِفَ بِاللَّهِ مَا اشْتَرَيْتَهَا إِلَّا بِمَا قُلْتَ، فَإِنْ حَلَفَ بَرِئَ مِنْهَا، وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُدَّعٍ عَلَى صَاحِبِهِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر ایک شخص کوئی چیز خرید کرے کسی شخص سے، پھر ثمن میں اختلاف ہو، بائع کہے: میں نے دس دینار کو بیچا۔ مشتری کہے: میں نے پانچ دینار کو خریدا، تو بائع سے کہا جائے گا: اگر تیرا جی چاہے تو پانچ دینار کو مشتری کو دے دے، نہیں تو تو قسم کھا اس امر پر: میں نے اپنی چیز نہیں بیچی مگر دس دینار کو۔ اگر بائع نے قسم کھائی، تو مشتری سے کہا جائے گا: اگر تیرا جی چاہے تو اس کی چیز دس دینار کو لے لے، نہیں تو قسم کھا: میں نے اس چیز کو نہیں خریدا مگر پانچ دینار کو۔ اگر مشتری نے یہ قسم کھا لی تو وہ بری ہوجائے گا، کیونکہ ہر ایک ان میں سے دوسرے کا مدعی ہے۔