حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ملامسہ اور منابذہ سے۔
حدیث نمبر: 1376B1
قَالَ مَالِك : وَالْمُلَامَسَةُ : أَنْ يَلْمِسَ الرَّجُلُ الثَّوْبَ وَلَا يَنْشُرُهُ وَلَا يَتَبَيَّنُ مَا فِيهِ أَوْ يَبْتَاعَهُ لَيْلًا وَلَا يَعْلَمُ مَا فِيهِ . وَالْمُنَابَذَةُ : أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ثَوْبَهُ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ عَلَى غَيْرِ تَأَمُّلٍ مِنْهُمَا، وَيَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : هَذَا بِهَذَا، فَهَذَا الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ملامسہ اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایک کپڑے کو چھو کر خرید کر لے، نہ اس کو کھولے نہ اندر سے دیکھے، یا اندھیری رات میں خریدے، نہ جانے اس میں کیا ہے۔ اور منابذ ہ اس کو کہتے ہیں کہ بائع اپنا کپڑا مشتری کی طرف پھینک دے، اور مشتری اپنا کپڑا بائع کی طرف، نہ سوچیں نہ بچاریں، یہ اس کے بدلے میں اور وہ اس کے بارے میں، یہ دونوں ممنوع ہیں۔
حدیث نمبر: 1376B2
قَالَ مَالِك فِي السَّاجِ الْمُدْرَجِ فِي جِرَابِهِ، أَوِ الثَّوْبِ الْقُبْطِيِّ الْمُدْرَجِ فِي طَيِّهِ : إِنَّهُ لَا يَجُوزُ بَيْعُهُمَا حَتَّى يُنْشَرَا وَيُنْظَرَ إِلَى مَا فِي أَجْوَافِهِمَا، وَذَلِكَ أَنَّ بَيْعَهُمَا مِنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَهُوَ مِنَ الْمُلَامَسَةِ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو تھان تہہ کیا، یا چادر بستے میں بندھی ہو، تو اس کا بیچنا درست نہیں جب تک کھول کر اندر نہ دیکھے۔
حدیث نمبر: 1376B3
قَالَ مَالِك : وَبَيْعُ الْأَعْدَالِ عَلَى الْبَرْنَامَجِ، مُخَالِفٌ لِبَيْعِ السَّاجِ فِي جِرَابِهِ وَالثَّوْبِ فِي طَيِّهِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ الْأَمْرُ الْمَعْمُولُ بِهِ وَمَعْرِفَةُ ذَلِكَ فِي صُدُورِ النَّاسِ وَمَا مَضَى مِنْ عَمَلِ الْمَاضِينَ فِيهِ، وَأَنَّهُ لَمْ يَزَلْ مِنْ بُيُوعِ النَّاسِ الْجَائِزَةِ وَالتِّجَارَةِ بَيْنَهُمُ الَّتِي لَا يَرَوْنَ بِهَا بَأْسًا، لِأَنَّ بَيْعَ الْأَعْدَالِ عَلَى الْبَرْنَامَجِ عَلَى غَيْرِ نَشْرٍ لَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ، وَلَيْسَ يُشْبِهُ الْمُلَامَسَةَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ برنامے کی بیع کا یہ حکم نہیں، وہ جائز ہے، اس لئے کہ ہمیشہ سے لوگ اس کو کر تے ہوئے آئے اور اس سے دھوکا دینا مقصود نہیں ہوتا۔