کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1372
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا دو بیعوں سے ایک بیع میں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1372
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح لغيره
تخریج حدیث «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1231، والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 4636، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9582، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 72»
حدیث نمبر: 1373
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَجُلٍ : ابْتَعْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ بِنَقْدٍ حَتَّى أَبْتَاعَهُ مِنْكَ إِلَى أَجَلٍ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا: تم میرے واسطے یہ اونٹ نقد خرید کر لو، میں تم سے وعدے پر خرید کر لوں گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو بُرا جانا اور منع کیا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1373
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف،وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14439، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3725، وابن حبان فى «صحيحه» : 5025، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 73»
حدیث نمبر: 1374
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ سُئِلَ عَنْ " رَجُلٍ اشْتَرَى سِلْعَةً بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد سے سوال ہوا: ایک شخص نے ایک چیز خریدی دس دینار کے بدلے میں، یا پندہ دینار اُدھار کے بدلے میں؟ تو قاسم بن محمد نے اس کو بُرا جانا، اور اس سے منع کیا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1374
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 74»
حدیث نمبر: 1374B1
قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ ابْتَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ، قَدْ وَجَبَتْ لِلْمُشْتَرِي بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ : إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي ذَلِكَ، لِأَنَّهُ إِنْ أَخَّرَ الْعَشَرَةَ كَانَتْ خَمْسَةَ عَشَرَ إِلَى أَجَلٍ، وَإِنْ نَقَدَ الْعَشَرَةَ كَانَ إِنَّمَا اشْتَرَى بِهَا الْخَمْسَةَ عَشَرَ الَّتِي إِلَى أَجَلٍ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے ایک کپڑا اس شرط سے خریدا کہ اگر نقد دے تو دس دینار دے، اگر وعدے پر دے تو پندرہ دینار دے، بہرحال مشتری کو دونوں میں ایک قمیت دینا ضروری ہے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اس نے اگر دس دینار نقد نہ دیئے تو دس کے بدلے پندرہ اُدھار ہوئے، اور جو دس نقد دے دیئے تو گویا پندرہ ادھار اس کے بدلے میں لیے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1374B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 74»
حدیث نمبر: 1374B2
قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً بِدِينَارٍ نَقْدًا أَوْ بِشَاةٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ : إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لَا يَنْبَغِي، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَهَذَا مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے ایک چیز خریدی ایک دینار نقد کے بدلے میں، یا ایک بکری اُدھار کے بدلے میں، ان دونوں میں سے ایک مشتری کو ضرور دینا ہو تو یہ جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے دو بیعوں سے ایک بیع میں، اور یہ وہی ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1374B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 74»
حدیث نمبر: 1374B3
قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ : أَشْتَرِي مِنْكَ هَذِهِ الْعَجْوَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوِ الصَّيْحَانِيَّ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ، أَوِ الْحِنْطَةَ الْمَحْمُولَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوِ الشَّامِيَّةَ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ بِدِينَارٍ، قَدْ وَجَبَتْ لِي إِحْدَاهُمَا : إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لَا يَحِلُّ، وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ أَوْجَبَ لَهُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ صَيْحَانِيًّا، فَهُوَ يَدَعُهَا وَيَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنَ الْعَجْوَةِ، أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنَ الْحِنْطَةِ الْمَحْمُولَةِ فَيَدَعُهَا وَيَأْخُذُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ مِنَ الشَّامِيَّةِ، فَهَذَا أَيْضًا مَكْرُوهٌ لَا يَحِلُّ، وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَهُوَ أَيْضًا مِمَّا نُهِيَ عَنْهُ أَنْ يُبَاعَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ مِنَ الطَّعَامِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مشتری نے بائع سے کہا: میں نے تجھ سے اس قسم کی کھجور پندرہ صاع یا اس قسم کی دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لی، دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا۔ یا یوں کہا: میں نے تجھ سے اس قسم کی گیہوں پندرہ صاع یا اس قسم کی گیہوں دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لیے، دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا، تو یہ درست نہیں، گویا اس نے دس صاع کھجور لے کر پھر اس کو چھوڑ کر پندرہ صاع کھجور لی، یا دس صاع گیہوں چھوڑ کر اس کے عوض میں پندرہ صاع لیے، یہ بھی اس میں داخل ہے، یعنی دو بیع کرنا ایک بیع میں۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1374B3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 74»