کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: اناج کو میعاد پر بیچنا جس طرح مکر وہ ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1349
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ " يَنْهَيَانِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ حِنْطَةً بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار منع کرتے تھے اس بات سے کہ کوئی شخص گیہوں کو سونے کے بدلے میں یبچے معیاد لگا کر، پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور لے لے۔
حدیث نمبر: 1350
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ الرَّجُلِ يَبِيعُ الطَّعَامَ مِنَ الرَّجُلِ بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِي بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت کثیر بن فرقد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے پوچھا: کوئی شخص اناج کو سونے کے بدلے میں میعاد لگا کر بیچے، پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور خرید لے؟ انہوں نے کہا: یہ مکروہ ہے، اور منع کیا اس سے۔
حدیث نمبر: 1351
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں
حضرت ابن شہاب سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1351B1
قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا نَهَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنْ لَا يَبِيعَ الرَّجُلُ حِنْطَةً بِذَهَبٍ، ثُمَّ يَشْتَرِي الرَّجُلُ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ مِنْ بَيْعِهِ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ الْحِنْطَةَ، فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ الَّتِي بَاعَ بِهَا الْحِنْطَةَ إِلَى أَجَلٍ تَمْرًا مِنْ غَيْرِ بَائِعِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ، قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ وَيُحِيلَ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ التَّمْرَ عَلَى غَرِيمِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ بِالذَّهَبِ، الَّتِي لَهُ عَلَيْهِ فِي ثَمَرِ التَّمْرِ، فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار اور ابوبکر بن محمد اور ابن شہاب نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی آدمی گیہوں کو سونے کے بدلے میں بیچے، پھر اس سونے کے بدلے کھجور خرید لے اسی شخص سے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے قبل اس بات کے کہ سونے پر قبضہ کرے، اگر اس سونے کے بدلے میں کسی اور شخص سے کھجور خریدے سوائے اس شخص کے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے ہیں، اور کھجور کی قیمت کا حوالہ کر دے اس شخص پر جس کے ہاتھوں گیہوں بیچے ہیں تو درست ہے۔
حدیث نمبر: 1351B2
قَالَ مَالِك : وَقَدْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَلَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے بہت سے اہلِ علم سے اس مسئلہ کو پوچھا، اُن سب نے کہا درست ہے۔