کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1312
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ انکی پختگی اور بہتری کا یقین ہو جائے، منع کیا بائع کو اور مشتری کو۔
حدیث نمبر: 1313
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ "، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تُزْهِيَ ؟ فَقَالَ : " حِينَ تَحْمَرُّ "، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ خوش رنگ ہو جائیں۔ لوگوں نے کہا: اس سے کیا مراد ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ یا زرد ہو جائیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اگر اللہ ان پھلوں کو پکنے نہ دے تو کس چیز کے بدلے میں تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال لے گا۔“
حدیث نمبر: 1314
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ آفت کا خوف جاتا رہے۔
حدیث نمبر: 1314B1
قَالَ مَالِكٌ : وَبَيْعُ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا مِنْ بَيْعِ الْغَرَرِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پھلوں کا بیچنا ان کی بہتری معلوم ہونے سے پہلے دھوکہ کی بیع ہے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا۔
حدیث نمبر: 1315
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَبِيعُ ثِمَارَهُ، حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا " .
علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے پھلوں کو اس وقت بیچتے جب ثریا کے تارے نکال آتے۔
حدیث نمبر: 1315B1
قَالَ مَالِكٌ : وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الْبِطِّيخِ، وَالْقِثَّاءِ، وَالْخِرْبِزِ، وَالْجَزَرِ إِنَّ بَيْعَهُ إِذَا بَدَا صَلَاحُهُ حَلَالٌ جَائِزٌ، ثُمَّ يَكُونُ لِلْمُشْتَرِي مَا يَنْبُتُ حَتَّى يَنْقَطِعَ ثَمَرُهُ وَيَهْلِكَ، وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ وَقْتٌ يُؤَقَّتُ، وَذَلِكَ أَنَّ وَقْتَهُ مَعْرُوفٌ عِنْدَ النَّاسِ، وَرُبَّمَا دَخَلَتْهُ الْعَاهَةُ، فَقَطَعَتْ ثَمَرَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ ذَلِكَ الْوَقْتُ، فَإِذَا دَخَلَتْهُ الْعَاهَةُ بِجَائِحَةٍ تَبْلُغُ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا، كَانَ ذَلِكَ مَوْضُوعًا عَنِ الَّذِي ابْتَاعَهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خربوزہ اور ککڑی اور گاجر کا بیچنا درست ہے جب ان کی بہتری کا حال معلوم ہو جائے، پھر جو کچھ اُگیں وہ فصل کے تمام ہونے تک مشتری کے ہونگے، اس کا کوئی وقت مقرر نہیں، ہر جگہ کے دستور اور رواج کے موافق حکم ہوگا، اگر قبل اس وقت کے کسی آفت کے سبب نقصان ہو تہائی مال تک تو مشتری کو وہ نقصان مجرا دیا جائے گا، اور تہائی سے کم اگر نقصان ہو تو مجرا نہ دیا جائے گا۔