کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جب مکاتب آزاد ہو جائے اس کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 1299
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ مُكَاتَبٍ كَانَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَمَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا كَثِيرًا، فَقَالَ : " يُؤَدَّى إِلَى الَّذِي تَمَاسَكَ بِكِتَابَتِهِ الَّذِي بَقِيَ لَهُ، ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ مَا بَقِيَ بِالسَّوِيَّةِ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے سوال ہوا کہ ایک مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو، ایک شخص اُن میں سے اپنا حصّہ آزاد کر دے، پھر مکاتب مر جائے اور بہت سا مال چھوڑ جائے تو؟ سعید نے کہا: جس نے آزاد نہیں کیا اس کا بدل کتابت ادا کر کے باقی جو کچھ بچے گا دونوں شخص بانٹ لیں گے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1299
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16954، 17219، 21721، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10005، 13416، 15654، 15668، 15669، 18712، 19236، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21928، 22204، 29613، 33410، فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 1299B1
قَالَ مَالِك : إِذَا كَاتَبَ الْمُكَاتَبُ فَعَتَقَ، فَإِنَّمَا يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِمَنْ كَاتَبَهُ مِنَ الرِّجَالِ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُكَاتَبُ مِنْ وَلَدٍ، أَوْ عَصَبَةٍ ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب مکاتب آزاد ہو جائے تو اس کا وارث وہ شخص ہوگا جس نے مکاتب کیا، یا مکاتب کے قریب سے قریب رشتہ دار مردوں میں سے جس دن مکاتب مرا ہے، لڑکا ہو یا اور عصبہ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1299B1
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 1299B2
قَالَ : وَهَذَا أَيْضًا فِي كُلِّ مَنْ أُعْتِقَ، فَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ لِأَقْرَبِ النَّاسِ مِمَّنْ أَعْتَقَهُ مِنْ وَلَدٍ أَوْ عَصَبَةٍ مِنَ الرِّجَالِ يَوْمَ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ، بَعْدَ أَنْ يَعْتِقَ وَيَصِيرَ مَوْرُوثًا بِالْوَلَاءِ . ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس طرح جو شخص آزاد ہو جائے، تو اس کی میراث اس شخص کو ملے گی جو آزاد کرنے والے کا قریب سے قریب رشتہ دار ہو، لڑکا ہو یا اور کوئی عصبہ، جس دن وہ غلام مرا ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1299B2
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 1299B3
قَالَ مَالِك : الْإِخْوَةُ فِي الْكِتَابَةِ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ، إِذَا كُوتِبُوا جَمِيعًا كِتَابَةً وَاحِدَةً إِذَا لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَدٌ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ، أَوْ وُلِدُوا فِي كِتَابَتِهِ أَوْ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ هَلَكَ أَحَدُهُمْ وَتَرَكَ مَالًا أُدِّيَ عَنْهُمْ جَمِيعُ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ كِتَابَتِهِمْ وَعَتَقُوا، وَكَانَ فَضْلُ الْمَالِ بَعْدَ ذَلِكَ لِوَلَدِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ ¤
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر چند بھائی اکٹھا مکاتب کر دیئے جائیں، اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو جو کتابت میں پیدا ہوئی ہو، یا عقد کتابت میں داخل ہو، تو وہ بھائی آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، اگر اُن میں سے کسی کا لڑکا ہوگا جو کتابت میں پیدا ہوا ہو، یا اس پر عقد کتابت واقع ہوا ہو اور وہ مر جائے، تو پہلے اس کے مال میں سے سب کا بدل کتابت ادا کر کے جو کچھ بچ رہے گا وہ اس کی اولاد کو ملے گا، اس کے بھائیوں کو نہ ملے گا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المكاتب / حدیث: 1299B3
تخریج حدیث «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 11»