کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: بردے آزاد کرنے کی فضلیت اور زانیہ اور ولدِ زنا کے آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1281
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرِّقَابِ، أَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا: کون سا بررہ آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی قیمت بھاری ہو اور اس کے مالکوں کو بہت مرغوب ہو۔“
حدیث نمبر: 1282
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ " أَعْتَقَ وَلَدَ زِنًا وَأُمَّهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ولدِ زنا کو اور اس کی ماں کو آزاد کیا۔