کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: اُم ولد کا آزاد ہونا اور آزاد کرنے کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 1272
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا، فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا وَلَا يَهَبُهَا وَلَا يُوَرِّثُهَا وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَإِذَا مَاتَ، فَهِيَ حُرَّةٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک سے جنے تو مالک اس کو نہ بیچے نہ ہبہ کرے، نہ وہ مالک کے وارثوں کے ملک میں آ سکتی ہے، بلکہ جب تک مالک زندہ رہے اس سے مزے لے، جب مر جائے وہ آزاد ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 1273
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا، فَأَعْتَقَهَا " .
علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 1273B1
. قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ، وَأَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ أَوْ يَبْلُغَ مَبْلَغَ الْمُحْتَلِمِ، وَأَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَإِنْ بَلَغَ الْحُلُمَ حَتَّى يَلِيَ مَالَهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص پر اتنا قرض ہو کہ سارا مال اس کا قرض میں جا سکے، وہ اگر غلام یا لونڈی کو آزاد کر دے تو درست نہیں۔ اسی طرح نابالغ کو آزاد کرنا اپنے غلام یا لونڈی کا درست نہیں جب تک بالغ نہ ہو جائے، نہ اس کے ولی کو جب تک ولایت اس کی قائم ہے۔