حدیث نمبر: 1265
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے حرام ہو جاتا ہے جو نسب سے حرام ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1266
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ " . قَالَ مَالِكٌ : وَالْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ
علامہ وحید الزماں
سیدہ جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے قصد کیا تھا کہ منع کردوں جماع سے جب تک عورت اپنے بچے کو دودھ پلائے، پھر مجھے معلوم ہوا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کیا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد کو کچھ نقصان نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1267
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، " فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ " ، قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِكٌ : وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پہلے قرآن شریف میں یہ اُترا تھا کہ دس بار دودھ پلائے تو حرمت ثابت ہوتی ہے، پھر منسوخ ہو گیا اور پانچ بار پلانا ٹھہرا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور لوگ اس کو قرآن پڑھتے تھے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ بلکہ قلیل اور کثیر دونوں رضاعت سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ بلکہ قلیل اور کثیر دونوں رضاعت سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔