حدیث نمبر: 1243
علامہ وحید الزماں
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے تین حدیثیں ان سے بیان کیں۔ ایک تو یہ کہ میں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، جب ان کے باپ ابوسفیان بن حرب مرے تھے، تو سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی جس میں زردی ملی ہوئی تھی، وہ خوشبو ایک لونڈی کے لگا کر اپنے کلّوں پر لگا لی اور کہا کہ اللہ کی قسم! مجھےخوشبو کی احتیاج نہیں، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ کسی مردے پر تین دن تک زیادہ سوگ کرے، سوا خاوند کے کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔“
دوسری حدیث یہ ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ جب ان کے بھائی مر گئے تھے، انہوں نے خوشبو منگا کر لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی حاجت نہیں، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر، اس کو درست نہیں کہ سوگ کرے کسی مردے پر تین روز سے زیادہ، مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔“
تیسری حدیث یہ ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اپنی ماں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، انہوں نے کہا: ایک عورت آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اورکہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیٹی کا خاوند مر گیا اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، اگر فرمائیں تو سرمہ لگا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”نہیں نہیں۔“ دو بار یا تین بار، پھر فرمایا: ”بلکہ چار مہینے دس دن تک پرہیز کرنا ضروری ہے، اور جاہلیت میں ایک سال تک پرہیز کرتے تھے، جب سال ختم ہوتا تو اونٹ کی مینگنی پھینکتے تھے۔“ حمید نے کہا: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اونٹ کی مینگنی پھینکنے سے کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: زمانۂ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو ایک کھنڈر میں چلے جاتے اور برے سے برے کپڑے پہن لیتے، پھر ایک سال تک خوشبو وغیرہ کچھ نہ لگاتے، بعد سال کے ایک جانور لاتے گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ، اس کو اپنے بدن پر ملتے، اکثر وہ مرجاتا، بعد اس کے باہر نکلتے تو ایک اونٹ کی مینگنی اس کو دیتے، اس کو پھینک کر پھر اختیار ہوتا۔ چاہے خوشبو لگائے یا اور کوئی کام کرے۔
دوسری حدیث یہ ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ جب ان کے بھائی مر گئے تھے، انہوں نے خوشبو منگا کر لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی حاجت نہیں، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر، اس کو درست نہیں کہ سوگ کرے کسی مردے پر تین روز سے زیادہ، مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔“
تیسری حدیث یہ ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اپنی ماں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، انہوں نے کہا: ایک عورت آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اورکہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیٹی کا خاوند مر گیا اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، اگر فرمائیں تو سرمہ لگا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”نہیں نہیں۔“ دو بار یا تین بار، پھر فرمایا: ”بلکہ چار مہینے دس دن تک پرہیز کرنا ضروری ہے، اور جاہلیت میں ایک سال تک پرہیز کرتے تھے، جب سال ختم ہوتا تو اونٹ کی مینگنی پھینکتے تھے۔“ حمید نے کہا: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اونٹ کی مینگنی پھینکنے سے کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: زمانۂ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو ایک کھنڈر میں چلے جاتے اور برے سے برے کپڑے پہن لیتے، پھر ایک سال تک خوشبو وغیرہ کچھ نہ لگاتے، بعد سال کے ایک جانور لاتے گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ، اس کو اپنے بدن پر ملتے، اکثر وہ مرجاتا، بعد اس کے باہر نکلتے تو ایک اونٹ کی مینگنی اس کو دیتے، اس کو پھینک کر پھر اختیار ہوتا۔ چاہے خوشبو لگائے یا اور کوئی کام کرے۔
حدیث نمبر: 1244
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور اُم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر، اس کو درست نہیں سوگ کرنا کسی مردے پر تین راتوں سے زیادہ مگر خاوند پر۔“
حدیث نمبر: 1245
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لِامْرَأَةٍ حَادٍّ عَلَى زَوْجِهَا اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ مِنْهَا : " اكْتَحِلِي بِكُحْلِ الْجِلَاءِ بِاللَّيْلِ، وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت سے جو سوگ میں تھی اپنے خاوند کے، اور اس کی آنکھ دکھتی تھی، کہا: رات کو وہ سرمہ لگا لے جس سے آنکھ روشن ہو اور دن کو پونچھ ڈالے۔
حدیث نمبر: 1246
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ فِي الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا : " إِنَّهَا إِذَا خَشِيَتْ عَلَى بَصَرِهَا مِنْ رَمَدٍ، أَوْ شَكْوٍ أَصَابَهَا، إِنَّهَا تَكْتَحِلُ وَتَتَدَاوَى بِدَوَاءٍ أَوْ كُحْلٍ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ طِيبٌ " . قَالَ مَالِكٌ : وَإِذَا كَانَتِ الضَّرُورَةُ، فَإِنَّ دِينَ اللَّهِ يُسْرٌ
علامہ وحید الزماں
حضرت سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے: جس عورت کا خاوند مر جائے اور اس کو آنکھ کے آشوب یا کسی اور دُکھ کی تکلیف ہو، وہ سرمہ لگائے اور دوا کرے اگرچہ اس میں خوشبو ہو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب ضرورت ہو تو اللہ جل جلالہُ کا دین آسان ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب ضرورت ہو تو اللہ جل جلالہُ کا دین آسان ہے۔
حدیث نمبر: 1247
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا وَهِيَ حَادٌّ عَلَى زَوْجِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمْ تَكْتَحِلْ حَتَّى كَادَتْ عَيْنَاهَا تَرْمَصَانِ " . قَالَ مَالِك : تَدَّهِنُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا بِالزَّيْتِ وَالشِّيرِقِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ . قَالَ مَالِك : وَلَا تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ الْحَادُّ عَلَى زَوْجِهَا شَيْئًا مِنَ الْحَلْيِ، خَاتَمًا، وَلَا خَلْخَالًا، وَلَا غَيْرَ ذَلِكَ مِنَ الْحَلْيِ، وَلَا تَلْبَسُ شَيْئًا مِنَ الْعَصْبِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَصْبًا غَلِيظًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِشَيْءٍ مِنَ الصِّبْغِ إِلَّا بِالسَّوَادِ، وَلَا تَمْتَشِطُ إِلَّا بِالسِّدْرِ، وَمَا أَشْبَهَهُ مِمَّا لَا يَخْتَمِرُ فِي رَأْسِهَا
علامہ وحید الزماں
حضرت صفیہ بنت ابوعبید اپنے خاوند یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سوگ میں تھیں، انہوں نے سرمہ نہ لگایا اور ان کی آنکھیں دکھتی تھیں یہاں تک کہ چیپڑ آنے لگا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت سوگ میں ہو اپنے خاوند کے، وہ زیور قسم سے کچھ نہ پہنے، نہ انگوٹھی، نہ پازیب، نہ اور زیور، نہ یمن کا کپڑا مگر جب موٹا اور سخت ہو، نہ رنگا ہوا کپڑا مگر سیاہ، نہ کنگھی کرے، نہ کھلی ڈالے، مگر بیری وغیرہ کے پتوں سے بالوں کو دھو سکتی ہے، یا اور کسی چیز سے جس میں خوشبو نہ ہو۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس عورت کا خاوند مر جائے وہ تیل زیتون کا یا تل کا جس میں خوشبو نہ ہو لگائے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت سوگ میں ہو اپنے خاوند کے، وہ زیور قسم سے کچھ نہ پہنے، نہ انگوٹھی، نہ پازیب، نہ اور زیور، نہ یمن کا کپڑا مگر جب موٹا اور سخت ہو، نہ رنگا ہوا کپڑا مگر سیاہ، نہ کنگھی کرے، نہ کھلی ڈالے، مگر بیری وغیرہ کے پتوں سے بالوں کو دھو سکتی ہے، یا اور کسی چیز سے جس میں خوشبو نہ ہو۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس عورت کا خاوند مر جائے وہ تیل زیتون کا یا تل کا جس میں خوشبو نہ ہو لگائے۔
حدیث نمبر: 1248
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ حَادٌّ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ جَعَلَتْ عَلَى عَيْنَيْهَا صَبِرًا، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟ " فَقَالَتْ : إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : " اجْعَلِيهِ فِي اللَّيْلِ، وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ " .
علامہ وحید الزماں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور وہ اپنے خاوند ابوسلمہ کے سوگ میں تھیں، انہوں نے اپنی آنکھوں پر ایلوا لگایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے اُم سلمہ! یہ کیا لگایا؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ایلوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کو لگایا کر اور دن کو پونچھ ڈالا کر۔“
حدیث نمبر: 1248B1
. قَالَ مَالِكٌ : الْإِحْدَادُ عَلَى الصَّبِيَّةِ الَّتِي لَمْ تَبْلُغْ الْمَحِيضَ، كَهَيْئَتِهِ عَلَى الَّتِي قَدْ بَلَغَتِ الْمَحِيضَ، تَجْتَنِبُ مَا تَجْتَنِبُ الْمَرْأَةُ الْبَالِغَةُ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عورت نابالغ ہو، اس کو حیض نہ آتا ہو، وہ بالغہ کی طرح ہے، جب اس کا خاوند مر جائے تو سوگ کرے، اور جن امور سے بالغہ کو پرہیز کرنا لازم ہے ان سے بھی پرہیز کرے۔
حدیث نمبر: 1248B2
قَالَ مَالِكٌ : تُحِدُّ الْأَمَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ، مِثْلَ عِدَّتِهَا .
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب لونڈی کا خاوند مر جائے، وہ دو مہینے پانچ دن تک سوگ کرے۔
حدیث نمبر: 1248B3
. قَالَ مَالِكٌ : لَيْسَ عَلَى أُمِّ الْوَلَدِ إِحْدَادٌ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا سَيِّدُهَا، وَلَا عَلَى أَمَةٍ يَمُوتُ عَنْهَا سَيِّدُهَا إِحْدَادٌ، وَإِنَّمَا الْإِحْدَادُ عَلَى ذَوَاتِ الْأَزْوَاجِ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب اُم ولد کا مولیٰ مر جائے، تو وہ سوگ نہ کرے کیونکہ سوگ ان عورتوں پر لازم ہے جو خاوند والیاں ہوں۔
حدیث نمبر: 1249
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ تَقُولُ : " تَجْمَعُ الْحَادُّ رَأْسَهَا بِالسِّدْرِ وَالزَّيْتِ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: جو عورت سوگ میں ہو وہ اپنے سر کو بیری کے پتے سے دھو سکتی ہے، اور زیتون کا تیل ڈال سکتی ہے۔