حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، فَقُلْنَا : نَعْزِلُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ "
علامہ وحید الزماں
ابن محیریز سے روایت ہے کہ میں مسجد میں گیا، وہاں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو بیٹھے دیکھا، میں نے پوچھا: عزل درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں گئے، وہاں عورتیں کافروں کی قید ہوئیں، ہم لوگوں کو شہوت ہوئی اور محرومی دشوار گزری، اور یہ بھی کہ ہم چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو بیچ کر روپیہ حاصل کریں، اس لیے ہم نے چاہا کہ عزل کریں۔ پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے کیونکر عزل کریں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزل کرنے میں کچھ قباحت نہیں، کیونکہ جس جان کو پیدا کرنا اللہ کو منظور ہے وہ خواہ مخواہ پیدا ہوگی قیامت تک۔“
حدیث نمبر: 1238
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ "
علامہ وحید الزماں
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ اپنے والد( سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ عزل کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1239
مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِأَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ .
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد سے روایت ہے کہ وہ (سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ) عزل کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1240
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ ، لِأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، " أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ " . وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَعْزِلُ، وَكَانَ يَكْرَهُ الْعَزْلَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عزل نہیں کرتے تھے اور مکروہ جانتے تھے۔
حدیث نمبر: 1241
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَجَاءَهُ ابْنُ قَهْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ عِنْدِي جَوَارِيَ لِي لَيْسَ نِسَائِي اللَّاتِي أُكِنُّ بِأَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهُنَّ، وَلَيْسَ كُلُّهُنَّ يُعْجِبُنِي أَنْ تَحْمِلَ مِنِّي، أَفَأَعْزِلُ ؟ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَفْتِهِ يَا حَجَّاجُ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، إِنَّمَا نَجْلِسُ عِنْدَكَ لِنَتَعَلَّمَ مِنْكَ، قَالَ : أَفْتِهِ . قَالَ : فَقُلْتُ : " هُوَ حَرْثُكَ، إِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَشْتَهُ " . قَالَ : وَكُنْتُ أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْ زَيْدٍ، فَقَالَ زَيْدٌ : صَدَقَ
علامہ وحید الزماں
حضرت حجاج بن عمرو بن غزیہ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے، اتنے میں ابن قہد ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور کہا: اے ابوسعید! (کنیت ہے زید بن ثابت کی) میرے پاس چند لونڈیاں ہیں جو میری بیبیوں سے بہتر ہیں، مگر میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ سب حاملہ ہو جائیں، کیا میں اس سے عزل کروں؟ زید نے حجاج سے کہا: مسئلہ بتاؤ۔ حجاج نے کہا: اللہ تمہیں بخشے، ہم تو تمہارے پاس علم سیکھنے کو آتے ہیں۔ زید نے کہا: بتاؤ۔ جب میں نے کہا: وہ کھیتیاں ہیں تیری۔ تیرا جی چاہے ان میں پانی پہنچا یا جی چاہے سوکھا رکھ۔ میں ایسا ہی سنا کرتا تھا زید سے۔ زید نے کہا: سچ بولا۔
حدیث نمبر: 1242
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ذَفِيفٌ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَزْلِ، فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ، فَقَالَ : " أَخْبِرِيهِمْ "، فَكَأَنَّهَا اسْتَحْيَتْ، فَقَالَ : " هُوَ ذَلِكَ أَمَّا أَنَا فَأَفْعَلُهُ " يَعْنِي أَنَّهُ يَعْزِلُ . قَالَ مَالِكٌ : لَا يَعْزِلُ الرَّجُلُ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ إِلَّا بِإِذْنِهَا، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَعْزِلَ عَنْ أَمَتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهَا، وَمَنْ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةُ قَوْمٍ فَلَا يَعْزِلُ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ
علامہ وحید الزماں
ذفیف سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا: عزل کرنا درست ہے یا نہیں؟ انہوں نے اپنی لونڈی کو بلا کر کہا: تو ان کو بتا دے، اس نے شرم کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے۔ کہا: دیکھ لو، ایسا ہی حکم ہے، میں تو عزل کیا کرتا ہوں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: آزاد عورت سے عزل کرنا بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں، اور اپنی لونڈی سے بغیر اس کی اجازت کے درست ہے، اور پرائی لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت لینا ضروری ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: آزاد عورت سے عزل کرنا بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں، اور اپنی لونڈی سے بغیر اس کی اجازت کے درست ہے، اور پرائی لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت لینا ضروری ہے۔